قومی اعزاز برائے ‘خوشامدی اولمپکس’، نورالامین دانش کا کالم
پاکستان میں قومی اعزازت کی بندر بانٹ نے مغلیہ دور حکومت کے اعزازاتی نظام کو بھی شرما دیا ہے۔
دور حاضر کی اعزاز منڈی سے مستفید ہونے والوں کا مقابلہ دراصل مغلیہ سلطنت کے مشہور درباری میر خان سے ہے۔
ویسے تو بادشاہ کے درباروں میں طاقتوروں سے قربت دکھا کر رعایا پر رعب ڈالا جاتا ہے لیکن اس رشتے کو حقیقت میں آپ غلام اور آقا سے بڑھ کر کوئی اور نام نہیں دے سکتے، تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔
اورنگزیب کے دور میں ایک ایسے ہی صاحب میر خان تھے جن پر بادشاہ سے قربت کا جنون سوار تھا۔ اس وقت نام کے ساتھ امیر لکھوایا جانا بھی آقا سے قربت کی نشانی سمجھا جاتا تھا تو ان صاحب نے بھی اپنا نام میر خان سے امیر خان رکھوانے کے لئے بادشاہ اورنگزیب کے دربار میں خوب نوکری چاکری کی اور بعض حوالوں میں تو نام کی تبدیلی کی اجازت پر بادشاہ سلامت کو رقم دینے کا بھی تذکرہ آیا ہے۔
بادشاہ کے قریب بیٹھنا اور اعزازی لباس تک پہنے جانے کو تاریخی حوالوں سے آب حیات سمجھا جاتا رہا ہے لیکن 2026 میں تہذیب اور انسانی اقدار کے حوالے سے ترقی کا دعویدار انسان بھی اپنی غلامانہ خصلت سے باہر نہیں نکل سکا، اندر سے کھوکھلے کرداروں کے عقل و شعور پر مزید ماتم کرنے کے لئے ان کو مبارکباد دینے والوں کا مقام بھی دیکھ لیجئے۔
ان کے 80 نوے کلو کے جسم میں شاید ایک پاؤ بھی عقل و شعور کا نہیں رکھا گیا یا انہوں نے خود ہی اسے نکال کے کہیں پھینک دیا ہو گا۔ کچھ تو ایسے لوگوں کو ایسے شعبے میں بھی تمغہ حسن کارکردگی مل گیا جس سے ان کا کبھی تعلق ہی نہیں رہا اور اس پر کسی میں اتنی اخلاقی جرات ہی نہیں ہے کہ وہ اس اعزاز کو شکریے کے ساتھ لوٹا ہی دے۔
حق تو یہ ہے کہ ان تمام صاحبان کو میرٹ کے قتل عام پر نااہلی کا لائف ٹائم میڈل پہنایا جانا چاییے۔ احسان فراموشی کی روایات کی امین تاریخ میں اگر کچھ اور نہ ملے تو کبھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ایف سکس اسلام آباد کی فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے دیا گیا انٹرویو ضرور سن لیجئے گا۔
انگریز دور حکومت میں جس طرح کتوں کو نہلانے اور رعایا پر ظلم کرنے کی سہولت کاری کے انعام کے طور پر چند خاندانوں کو زمینوں اور القابات سے نوازا گیا بالکل آج ان میڈلز اور اس کو لینے والوں کی اوقات برٹش راج کے براؤن صاحبان کے برابر ہے۔
دونوں طبقات بادشاہ کے قصیدہ گوہ بھی ہیں، عوام پر ظلم کو سپورٹ بھی کرتے ہیں اور اگر کوئی اپنے حق کی بات کرے تو اسے غدار اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے اسی برٹش راج کے قانون کے تحت جیلوں میں بھی ڈال دیتے ہیں لیکن یاد رکھیں تاریخ میں ایسے میڈل ٹاؤٹی، ذہنی غلامی اور نااہلی کی سند ہوا کرتے ہیں۔

