میزائل حملوں کے بعد امارات کا ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا اعلان
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین اگلے نوٹس تک معطل کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایکس پر بیان میں اعلان کیا کہ یہ فیصلہ علاقائی کشیدگی، امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے تناؤ میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے ملک کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جن میں سے ایک متحدہ عرب امارات کے سمندری حدود سے باہر گرا اور دوسرا ملک کے پانیوں کے اندر گرا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے متحدہ عرب امارات کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے ان کے ملک پر میزائل داغے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصول کے خلاف ہے۔ اس سے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد بڑھانے اور خطے میں عدم تحفظ کو روکنے کی جاری کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔‘
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان میں سے کوئی بھی میزائل اماراتی سرزمین پر نہیں گرا۔
ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین اگلے نوٹس تک معطل کر دیا ہے۔یاد رہے کہ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد، متحدہ عرب امارات خطے میں ایرانی حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا ملک رہا۔
تاہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران نے آپریشن کے دوران متحدہ عرب امارات پر حملہ نہیں کیا۔