اہم خبریں

سپریم کورٹ میں‌ ایمان مزاری، ہادی علی کا مقدمہ، تاخیر پر جسٹس افغان کے سخت ریمارکس

اگست 20, 2026

سپریم کورٹ میں‌ ایمان مزاری، ہادی علی کا مقدمہ، تاخیر پر جسٹس افغان کے سخت ریمارکس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ٹویٹس پر پابند سلاسل کیے جانے والے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں‌ سماعت نہ کیے جانے کے خلاف درخواستوں پر کہا ہے کہ اگر 8 ستمبر کو بھی مقدمہ نہ سنا گیا تو پھر عدالت عظمٰی 17 ستمبر کو خود اس کیس کی سماعت کرے گی-

وکیل جوڑے کی سزا معطلی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہ کیے جانے کے خلاف درخواست پر جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی-

بینچ کے سربراہ جسٹس نعیم اختر افغان نے پوچھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے روسٹر کا کیا طریقہ کار ہے، یہ بھی بتائیں گرمیوں کی چھٹیاں کب تک ہیں-

اڈیالہ جیل میں‌ قید وکلا کی جانب سے پیش ہونے والے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ ہائیکورٹ میں‌ ججز کی گرمیوں کی چھٹیاں 6 ستمبر تک ہیں-

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بینچ کو بتایا کہ ہائیکورٹ میں کیس پہلے جسٹس آصف کے پاس لگا پھر جسٹس اعظم کی عدالت میں فکس ہوا-

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ دونوں کو 24 جنوری کو سزا ہوئی جبکہ سات فروری کوسزا کے اس فیصلے پر اپیل دائر کی، 19 فروری کو اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور ہوئی-

فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں‌ ایمان مزاری اور ہادی علی کی اپیلوں کے بارے میں‌ مزید تفصیل بتائی اور کہا کہ جلد سماعت کے لیے درخواست دی، 5 مارچ کو آفس نوٹ میں کہا گیا کیس فکس نہیں کر رہے، یکم جون کو ہائیکورٹ میں کیس فکس ہوا تو پراسیکیوشن نے تاریخ لے لی-

وکیل فیصل صدیقی کے مطابق پھر کیس فکس نہ ہوا تو 12 جون کو آفس نوٹ آیا جس میں جلد سماعت کی درخواست خارج ہوئی، برصغیر کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، اب گزشتہ روز پراسرار طور پر کیس دوبارہ 8 ستمبر کو ہائیکورٹ میں فکس کر دیا گیا ہے-

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اللہ نے ہمیں زندگی دی تو ہم 8 ستمبر کو بیٹھیں گے اور 9 ستمبر کو بھی کیس سنیں گے، سب کو مکمل طور پر بے نقاب ہونے دیں-

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ دائر کی گئی یہ درخواست قابل سماعت ہی نہیں ہے، درخواست گزار کی والدہ نے ہائیکورٹ کے باہر ہائیکورٹ کی بدنیتی بارے بیان دیا-

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ سسٹم ٹھیک چل رہا ہے، یا سسٹم ٹھیک نہیں چل رہا، ہمیں اس طرف نہ لے کر جائیں، ہمیں وہ بات کرنے پر مجبور نہ کریں جو ہم کہنا نہیں چاہتے، ایک اور تاریخ دے دیتے ہیں-

وکیل فیصل صدیقی نے بینچ کو آگاہ کیا کہ ہائیکورٹ میں کیس فکس ہونے کی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،ابھی صرف کمپیوٹر پر آیا ہے کہ 6 ستمبر کو کیس فکس ہے، کہیں ایسا نہ ہو کیس پھر غائب ہو جائے-

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ہم یہیں ہیں، بے فکر رہیں ہم غائب نہیں ہو رہے-

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کو زیر سماعت سمجھا جائے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے