وہ ’امریکی یوٹیوبر‘ جس کو جھوٹ بولنے پر ایک ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا
امریکہ کے کانسپریسی تھیوریسٹ (سازشی نظریات کے موجد) الیکس جونز اب بھی سنہ 2012 کے سینڈی ہُک ایلیمنٹری سکول کے قتل عام کے بارے میں اپنے جھوٹے دعووں پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ ادا کرنے کے عدالتی احکامات کا سامنا کر رہے ہیں ہرچند کہ ٹیکساس کی عدالت نے متاثرہ خاندانوں کو دی گئی رقم میں سے کچھ کو کم کر دیا ہے۔
’بومبسٹک انفووارز‘ کے بانی کے لیے متعدد جرمانوں کے فیصلوں کے درمیان وہ فیصلہ ایک قانونی فتح جس نے اس کو 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے جرمانے سے بچایا، تاہم وہ اور اس کی کمپنی ’فری سپیچ سسٹمز‘ کو ہرجانے کے عدالتی فیصلوں نے دیوالیہ ہونے پر مجبور کر دیا۔
سینڈی ہک سکول کے متاثرہ خاندانوں کو ابھی تک الیکس جونز کی جانب سے کوئی رقم ادا نہیں کی گئی-
سازشی نظریات سے کہانیاں بنا کر بیچنے والے الیکس جونز نے متعدد جاری قانونی کارروائیوں کے درمیان اپنا انفووارز پلیٹ فارم چھوڑ دیا ہے لیکن وہ اب بھی دوسری ویب سائٹس پر ایسی چیزیں نشر کر رہا ہے۔
الیکس جونز کو اب بھی کنیکٹی کٹ کے مقدمے میں ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کے ہتک عزت کے فیصلے کا سامنا ہے اور ٹیکساس کے مقدمے میں تقریباً 60 لاکھ ڈالر باقی ہیں۔
جونز، انفووارز اور ان کے خلاف مقدمات
سینڈی ہک سکول میں ہلاک ہونے والے فرسٹ گریڈ کے 20 طلبہ اور چھ اساتذہ کے متعدد رشتہ داروں نے الیکس جونز اور ان کی کمپنی فری سپیچ سسٹمز کے خلاف کنیکٹی کٹ اور ٹیکساس میں ہتک عزت اور جذباتی تکلیف پہنچانے کے لیے مقدمات دائر کیے۔
الیکس جونز نے یہ سازشی نظریہ پھیلایا تھا کہ کہ سکول میں فائرنگ "بحران پیدا کرنے والے کرداروں” نے کی تاکہ امریکہ میں شہریوں کے ہتھیار رکھنے کی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے-
متاثرین کے رشتہ داروں نے گواہی دی کہ الیکس جونز کو دیکھنے، سننے اور ماننے والوں نے ان کو قتل اور ریپ کی دھمکیاں دیں، اور ذاتی طور پر ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔
الیکس جونز نے عدالت میں دلیل دی کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں جو اس کو دوسروں افراد کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے جوڑتا ہو۔ تاہم اس نے حلفیہ طور پر تسلیم کیا کہ سکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
کنیٹی کٹ کے مقدمے میں الیکس جونز کے خلاف ہرجانے کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگی کا فیصلہ سنایا گیا تھا، جسے اپیل کے مراحل کے دوران تقریباً 150 ملین ڈالر تک کم کر دیا گیا۔ ٹیکساس میں بھی جونز پر تقریباً 50 ملین ڈالر ہرجانہ عائد کیا گیا تھا۔
جمعہ کے روز ریاستی اپیل کورٹ نے ٹیکساس کے فیصلے کے تحت عائد کردہ رقم کا بیشتر حصہ کالعدم قرار دے دیا کیونکہ یہ تادیبی ہرجانے (punitive damages) پر ریاست کی جانب سے مقرر کردہ قانونی حد سے کہیں زیادہ تھا۔
عدالتی حکم کے تحت اس حصے کو 40 ملین ڈالر سے زائد کی رقم سے کم کر کے 1.5 ملین ڈالر کر دیا گیا، جبکہ تقریباً 6 ملین ڈالر کی رقم برقرار رہی۔

