اہم خبریں

جرمنی سے 33 پاکستانیوں کی ملک بدری، فلائٹ پر پانچ لاکھ 18 ہزار یورو خرچ

اگست 22, 2026

جرمنی سے 33 پاکستانیوں کی ملک بدری، فلائٹ پر پانچ لاکھ 18 ہزار یورو خرچ

شہزاد حسین

جرمنی میں ملک بدری کی پالیسی ایک مرتبہ پھر محض سیاسی بحث تک محدود نہیں رہی بلکہ سرکاری اخراجات اور ریاستی ترجیحات کا سوال بھی بن گئی ہے۔ سنہ 2026 کی پہلی ششماہی میں لیپزگ ہالے ایئرپورٹ سے پاکستان جانے والی ایک چارٹر پرواز پر تقریباً پانچ لاکھ 18 ہزار یورو کے اخراجات سامنے آئے۔

اس پرواز کے ذریعے 33 افراد کو پاکستان واپس بھیجا گیا، جبکہ ان کی نگرانی اور سکیورٹی کے لیے وفاقی پولیس کے 75 اہلکار بھی تعینات تھے۔ جرمن حکومت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس عرصے میں فلائٹ کے اعتبار سے یہ سب سے مہنگی ملک بدری کی پرواز تھی۔

یہاں پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کی قیمت آخر کتنی ہے؟ اگر صرف پرواز کی لاگت کو 33 افراد پر تقسیم کیا جائے تو فی شخص تقریباً 15 ہزار 700 یورو بنتے ہیں۔ تاہم، یہ صرف مذکورہ پرواز کی لاگت کی ایک سادہ تقسیم ہے، مکمل آپریشنل اخراجات کا حساب نہیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی انتظامی کارروائی قانونی مراحل اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

جرمنی کی وفاقی حکومت کے مطابق سنہ 2026 کی پہلی ششماہی میں ملک بدری کے دوران سکیورٹی معاونت پر مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ یورو خرچ ہوئے۔

البتہ یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے دستیاب رپورٹ کے مطابق، پانچ لاکھ 18 ہزار یورو مالیت کی اس چارٹر پرواز کی مالی معاونت یورپی بارڈر ایجنسی، فرونٹیکس نے کی تھی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پوری رقم لازماً جرمن وفاقی بجٹ سے ادا کی گئی۔
تاہم اس حقیقت سے بنیادی سوال ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ سوال مزید وسیع ہو جاتا ہے کہ یورپی سطح پر ملک بدری کے لیے مختص عوامی وسائل کس حد تک مؤثر شفاف اور متناسب انداز میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے