حنا جاوید قتل کیس، ملزم سُسر کو گرفتار نہ کرنے کے سوال پر پولیس افسر کا جواب
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے پولیس افسر (آر پی او) نے کہا ہے کہ حنا جاوید قتل کیس میں جب تک ٹھوس شواہد سامنے نہیں آتے تب تک نامزد ملزم اور مقتولہ کے سُسر کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا-
اعلٰی تعلیم یافتہ خاتون کے قتل کے بعد اُن کے پروفیسر شوہر کی گرفتاری کے باعث ہائی پروفائل مقدمے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں راولپنڈی کے پولیس افسر (آر پی او) بابر سرفراز نے کہا کہ اُن کے پاس جب حنا جاوید قتل کیس میں اُن کے سسر کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت آئیں گے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران اُن سے پوچھا گیا تھا کہ مقتولہ حنا جاوید کے سسر جو سابق فوجی افسر ہیں وہ مقدمے (FIR) میں نامزد بھی ہیں لیکن پولیس اُن کو گرفتار نہیں کر رہی، کیا رکاوٹ ہے؟
یہ یہاں امر قابلِ ذکر ہے کہ قتل کے مقدمے میں نامزد کیے جانے والے افراد کو عام طور پر پولیس فوری گرفتار کرتی ہے اور اس کے لیے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وہ باہر رہتے ہوئے شواہد کو مٹا، خراب کر سکتے ہیں۔
مقتولہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے اور جسم پر زخموں کے نشان پائے گئے ہیں-
مقدمے کی تفصیل
قبل ازیں تھانہ سول لائنز کے علاقے لالکرتی میں 45 سالہ خاتون حنا جاوید کے مبینہ قتل کے مقدمے ان کے شوہر، اور گھریلو ملازم کا مقامی عدالت نے تین دن کے جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا جبکہ تیسرے ملزم اور مقتولہ کے سُسر کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ ’وہ ضعیف ہیں اور بیان قلمبند کر لیا گیا ہے۔‘
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کے قبضے سے رسی اور بجلی کی تار برآمد کرلی گئی ہے جس سے مبینہ طور پر مقتولہ کے ہاتھ اور گلا باندھا گیا تھا جب کہ اُن کے پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور لے کر جانا ہے- ملزمان کا ڈی این اے بھی کیا جانا ہے جبکہ مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال پولیس کو موصول نہیں ہوئی-
قبل ازیں مقتولہ کے خاندان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں سُسر کی گرفتاری نہ ہونے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
راولپنڈی سے 21 اگست 2026 کی رات جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’دو دن پہلے، ہماری پیاری حنا جاوید کو ہم سے چھین لیا گیا۔ اسے اس کے اپنے گھر میں قتل کیا گیا، اور اس کے شوہر کو ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ الفاظ اس نقصان کو بیان نہیں کر سکتے جو اس کے خاندان کو پہنچا ہے۔ حنا ایک بیٹی، ایک بہن، اور ایک دوست تھی — ایک ایسی جوان عورت جس کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی، اپنے منصوبوں، امنگوں اور ایک ایسے مستقبل کے ساتھ جس کی وہ حقدار تھی۔
ہمیں جو محبت اور تعاون ملا ہے، ہم اس کے لیے شکر گزار ہیں۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ حنا کو صرف اس کے مارے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے لیے یاد رکھا جائے کہ وہ کون تھی۔‘
بیان کے مطابق ’خاندان پاکستان کے قانونی اور عدالتی نظام پر کامل اعتماد رکھتا ہے اور اسے پورا یقین ہے کہ انصاف غالب آئے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آنے والے دن بہت اہم ہیں۔ تحقیقات کی شفافیت اور ایمانداری ہی یہ طے کرے گی کہ آیا حنا کو وہ انصاف ملتا ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ حنا کے سسر، جن کے بارے میں خاندان کا ماننا ہے کہ وہ اس کے قتل میں ملوث ہیں، کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں بغیر کسی مزید تاخیر کے تحویل میں لیا جائے اور ان کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ جس شخص نے بھی اس جرم میں مدد کی، اسے چھپایا، یا اس میں حصہ لیا، اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جزوی احتساب کوئی احتساب نہیں ہوتا-‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پنجاب پولیس اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ، کسی بھی اثر و رسوخ، دباؤ یا تاخیر کے بغیر کی جائیں۔ ہم میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ بیدار رہیں اور اس کیس کا اس کے اختتام تک قریب سے جائزہ لیں۔ حنا کا کیس ایسی فائل نہیں بننا چاہیے جو عوامی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمارے گھروں میں خواتین پر تشدد کوئی ذاتی معاملہ نہیں۔ یہ ایک جرم ہے، اور اس کو جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حنا کی موت کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق مکمل طور پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔ ہم آپ کی دعاؤں، آپ کی توجہ اور آپ کی یکجہتی کے طالب ہیں۔‘
قتل کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی۔ مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق لاش کے منہ سے خون اور جھاگ نکلنے کے آثار بھی پائے گئے۔