اہم خبریں

کراچی میں‌ سُنی علما کے قتل کے الزام میں‌ گرفتاری، سی ٹی ڈی کے بیان میں‌ ’سنگین غلطی‘

اگست 29, 2026

کراچی میں‌ سُنی علما کے قتل کے الزام میں‌ گرفتاری، سی ٹی ڈی کے بیان میں‌ ’سنگین غلطی‘

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کراچی میں وفاقی سول انٹیلی جنس کے ہمراہ خفیہ معلومات اور تکنیکی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ‘کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ محمد سے وابستہ ٹارگٹ کلر‘ سید محمد عسکری عابدی ولد سید مہدی نواب عابدی کو گرفتار کرنے کے بیان ’سنگین غلطی کی نشاندہی‘ کی گئی ہے۔

جمعے کو سی ٹی ڈی کے ترجمان کے بیان میں‌ کہا گیا تھا کہ گرفتار دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اور سی ٹی ڈی ریڈ بک ایڈیشن 10 انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے، دہشت گرد کافی عرصے سے روپوش تھا اور کراچی میں دوبارہ اپنے نیٹ ورک کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

گرفتار دہشت گرد کی تفصیل درج کرتے ہوئے سی ٹی ڈٰی کے بیان میں‌ ذکر ہے کہ عسکری عابدی ولد مہدی نواب عابدی نے ابتدائی تفتیش میں دہشت گرد نے ٹارگٹ کلنگ کی مختلف وارداتوں میں ملوث ہونے کے انکشاف کیے ہیں-

بیان میں‌ کہا گیا کہ دہشت گرد نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اپنے دیگر دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ ریکی کرتا تھا اور بعد میں ان کو دہشت گردی کر کے نشانہ بناتا تھا۔

بیان کے مطابق دہشت گرد کراچی کے مختلف تھانہ جات میں درج ذیل ٹارگٹ کلنگ کے مقدمات میں مطلوب ہے جن میں‌‎(1) مقدمہ الزام نمبر 312/2004 تھانہ جمشید کوارٹر (مفتی نظام الدین شامزئی) (2) مقدمہ الزام نمبر 64/2005 تھانہ جمشید کوارٹر (مفتی جمیل اور مفتی ارشاد) (3) مقدمہ الزام نمبر 64/2005 تھانہ فیروز آباد (ہارون قاسمی اور PC عتیق) (4) مقدمہ الزام نمبر 259/2005 تھانہ تیموریہ (مولانا احمد مدنی اور مولانا عبداللہ)-

صحافی ماجد نظامی نے اس بیان میں سنگین غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ پریس ریلیز کی حالت یہ ہے کہ 2004 میں قتل ہونے والے مفتی جمیل کو سنہ 2005 کی کسی ایف آئی آر سے منسلک کیا گیا ہے۔

اُنہوں‌ نے نشاندہی کی کہ مفتی ارشاد اور مفتی عتیق ایک ساتھ قتل ہوئے تھے۔ جبکہ مفتی جمیل خان اور مولانا نذیر تونسوی دوسرے واقعے میں قتل ہوئے تھے۔

صحافی ماجد نظامی نے تبصرہ کیا کہ مضحکہ خیزی یہ کہ مفتی جمیل اور مفتی ارشاد کی ایک ایف آئی آر بنا دی ہے۔ جبکہ مفتی شامزئی کے مقدمہِ قتل کا نمبر بھی غلط ہے۔ اگر پریس ریلیز اتنی پروفیشنل ہے تو اب پتہ نہیں تفتیش کتنی ماہرانہ ہو گی-

‏انہوں‌نے معلومات دیتے ہوئے مزید لکھا کہ 15 سال پہلے قاتلانہ حملے میں مارے جانے والے جامعہ محمودیہ بفر زون کراچی کے مہتمم مولانا محمود احمد مدنی کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اور سابق ایم این اے مولانا اعظم طارق کے سوتیلے بھائی تھے۔

ماجد نظامی نے کہا کہ کالعدم سپاہ محمد سے منسلک گرفتار عسکری عابدی سابق ایم این اے اور کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق قتل کیس میں بھی مطلوب تھے۔

وفاقی حکومت کی موسٹ وانٹڈ لسٹ کے مطابق دیگر ملزمان میں معجز عباس رضوی پاکستان جبکہ سید کاشف علی رضا، سید کلب عباس کاظمی اور اسد عباس ہمسایہ ملک ایران میں مفرور ہیں۔

ادھر سی ٹی ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق گرفتار دہشت گرد سے برآمدگی کی تفصیل میں‌ لکھا گیا ہے کہ ایک عدد ہینڈ گرنیڈ برنگ سبز اور ایک عدد کلاشنکوف لوڈ میگزین ملی ہے-
اسی طرح مزید کہا گیا ہے کہ ‎دہشت گرد کے خلاف تھانہ CTD آپریشن کراچی میں ذیل مقدمہ درج رجسٹر ہوئے۔
‎(1) مقدمات الزام نمبر 77/2026 بجرم دفعہ 4/5 Exp:Sub:Act: 1908 r/w 7-ATA 1997 تھانہ CTD کراچی (2) مقدمات الزام نمبر 78/2026 بجرم دفعہ 23(I)A سندھ آرمز ایکٹ 2013 تھانہ CTD کراچی-

‎ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے، اور اس دوران حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں اس کے دیگر دہشت گرد ساتھیوں اور نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کارروائی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی ٹی ڈی آپریشن کراچی اور وفاقی سول حساس ادارے نے ٹارگٹ کلر کے انکشافات کی روشنی میں مزید کارروائی کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے