Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 128

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
’پانی کی بوتل‘ جس نے تین دن سے لاپتہ غیرملکی ٹریکر کی تلاش میں‌ مدد کی
Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 118

Deprecated: Using null as an array offset is deprecated, use an empty string instead in /var/www/wptbox/wp-content/plugins/brizy/editor/project.php on line 119
اہم

’پانی کی بوتل‘ جس نے تین دن سے لاپتہ غیرملکی ٹریکر کی تلاش میں‌ مدد کی

ستمبر 2, 2026

’پانی کی بوتل‘ جس نے تین دن سے لاپتہ غیرملکی ٹریکر کی تلاش میں‌ مدد کی

ضلع مانسہرہ کی سرن ویلی میں‌ موسیٰ کا مصلیٰ نامی پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی پر گہری کھائی میں‌ گرنے سے انتقال کر جانے والے برطانوی ٹریکر الیگزینڈر ہیرس کی لاش کو کنگ عبداللہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں‌ سے اسلام آباد لایا جائے گا-

تین دن سے لاپتہ ٹریکر کی افسوسناک موت سے علاقے کی فضا سوگوار رہی، اور تلاش میں‌ مدد کے لیے 200 افراد پر مشتمل ٹیمیں منڈہ گچھہ سے واپس چلی گئی ہیں-

برطانوی ٹریکر، جن کے پاس آئرلینڈ کی شہریت بھی تھی، بنیادی طور پر برمنگھم سے تعلق رکھتے تھے- وہ 29 اگست کو صوبہ خیبر پختونخواکے ضلع مانسہرہ کی وادی سرن میں واقع موسیٰ کا مصلیٰ کے سفر کے دوران لاپتہ ہوئے تھے۔

ریسکیو 1122، ڈپٹی کمشنر اور پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک گہری کھائی میں لاش کی شناخت ڈرون کی مدد سے کی گئی تھی تاہم مقامی لوگ اس کی تصدیق نہیں‌ کرتے-

موسیٰ کا مصلیٰ جاتے ہوئے آخری گاؤں منڈہ گچھہ ہے جہاں‌ کے رہنے والے اس علاقے میں‌ پورٹر کا کام کرتے ہیں-

سڑک سے ساڑھے چھ گھنٹے کا پیدل فاصلہ طے کر کے پہاڑی نالے میں‌ لاش کو ڈھونڈنے والے مقامی رضاکاروں نے پاکستان24 کو بتایا کہ وہ بدھ کی صبح فجر کی نماز ادا کر کے نکلے تھے-

اُن کے مطابق مقامی رضاکار تین، تین کی ٹولیوں میں‌ تلاش کا کام کر رہے تھے جب ڈھور کے مقام سے دو گھنٹے شمال مشرق کی جانب پہاڑی نالے میں‌ دن ساڑھے نو بجے لاش نظر آئی-

سب سے پہلے لاش تک پہنچنے والے مقامی رضاکار منیر احمد نے پاکستان24 کو بتایا کہ موسیٰ کا مصلٰی کو جانے والے بائیں جانب کے روایتی راستے کے بجائے اُن کا گروپ دائیں‌ جانب کے پہاڑی نالے میں‌ تلاش جاری رکھے ہوئے تھا- انہوں‌نے بتایا کہ اُن کے ساتھ مزید دو مقامی رضاکار افسر شاہ اور ناظم شاہ تھے-

منیر احمد کا کہنا تھا کہ جب اُن کو نالے کے قریب کھائی میں‌ ٹریکنگ پر ساتھ لے جائی جانے والی پانی کی ایک بوتل نظر آئی تو امید پیدا ہوئی کہ لاپتہ ٹریکر کہیں قریب ہی ہوگا-

انہوں‌ نے پاکستان24 کو بتایا کہ یہ بہت دشوار گزار جگہ تھی، اور بوتل سے کچھ آگے اُن کو لاش نظر آئی-

وہ کہتے ہیں‌ کہ لاش کی رنگت بدل چکی تھی اور کسی حد تک بو بھی آ رہی تھی- منیر احمد کے مطابق اُن میں‌ سے ایک بندہ وہیں‌ رکا رہا جبکہ باقی دو ڈیڑھ گھنٹے کا فاصلہ طے کر کے اوپر گئے اور سگنل والی جگہ سے فون پر آگے اطلاع دی-
اس کے بعد پولیس اہلکار وہاں تک پہنچے جن کو اڑھائی گھنٹے لگے- پولیس کی ابتدائی کارروائی کے بعد مقامی رضاکاروں نے لکڑی سے سٹریچر بنا کر لاش کو اُس پر منتقل کیا-

منیر احمد کا کہنا تھا کہ سب سے مشکل مرحلہ لاش کو کھائی سے اوپر لانا تھا کیونکہ راستہ نہیں تھا اور کئی جگہوں پر گہرے پانی سے گزرنا پڑا-
ان کے مطابق رضاکار کم تھے اور تھکے ہوئے تھے جس کی وجہ سے یہ بہت ہی صبر آزما وقت تھا-

انہوں نے بتایا کہ بظاہر آئرش ٹریکر راستہ بھٹک کر پہاڑی ڈھلوان سے نیچے گرا، اور اس دوران اُس کو چوٹیں‌ آئیں- منیر احمد نے کہا کہ لاش کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اس کی گردن ٹوٹی ہے، سر پر چوٹ تھی اور ایک ٹخنہ بھی ٹوٹا ہوا تھا-

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ باقاعدہ طور پر معاوضہ لے کر کام کر رہے تھے تو انہوں‌ نے جواب دیا کہ انتظامیہ کے بعض لوگوں نے مقامی بزرگوں‌ سے کہا تھا کہ یہ علاقے کی عزت کا معاملہ ہے-

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مقامی پورٹر نے بتایا کہ دو دن تک جب ریسکیو، پولیس اور باہر سے بلائے گئے لوگ ناکام ہو گئے تو محکمہ جنگلات کے ضلعی افسر نے مقامی بزرگ افراد سے رابطہ کر کے مدد کی درخواست کی-

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران نے مقامی لوگوں‌ سے کہا کہ لاپتہ ٹریکر کو تلاش کرنے میں‌ کامیابی حاصل ہونے پر اُن کو جنگلات کے محکمے میں‌ نوکری بھی دی جائے گی اور انعامی رقم بھی ملے گی-

پاکستان24 نے جب تلاش میں‌ کامیاب ہونے والے منیر احمد سے پوچھا کہ اُن کو یا اُن کے ساتھیوں‌ کو انعامی رقم ملی ہے، تو منیر احمد نے جواب دیا کہ ابھی تک ایسی کوئی بات نہیں، تاہم آنے والے دنوں‌ میں‌ ممکن ہو کہ اُن کے کام کا اعتراف کیا جائے-

الیگزینڈر جس ہوٹل میں‌ ٹھہرے تھے اُس کی انتظامیہ کے مطابق انہوں نے اور ان کے ساتھی نے موسیٰ کا مصلیٰ سر کرنے کے لیے کسی مقامی پورٹر اور گائیڈ کی خدمات حاصل نہیں کی تھیں۔

تھانہ نواز آباد میں‌ موجود پولیس اہلکاروں‌کے مطابق کھائی میں‌ گرنے والے الیگزینڈر ہیرس کے ساتھی ایلن ڈیوڈ نے جب �اتوار کی رات اطلاع دی تو اُن کا مؤقف تھا کہ موسی کا مصلی سے واپسی پر دونوں ٹریکرز نے آپس میں دوڑ لگائی تھی کہ پہلے کون ہوٹل تک پہنچتا ہے۔

ایلن ڈیوڈ کے مطابق ہوٹل پہنچنے پر اُن کو معلوم ہوا کہ الیگزینڈر وہاں نہیں‌ تھے، اور وہ کچھ دیر کے لیے آرام کی غرض سے لیٹ گئے تھے-
پولیس کے مطابق جب شام کے بعد تک الیگزینڈر نہ پہنچے تو اُن کے ساتھ نے تھانے آ کر اطلاع دی-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے