گھریلو ملازم نے چور گھس آنے کی کہانی سنائی، حنا جاوید قتل کیس پر بریفنگ
راولپنڈی پولیس کے سربراہ حسن مشتاق سکھیرا نے حنا جاوید قتل کیس پر پارلیمنٹ (قومی اسمبلی) کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گھر کے ملازم نے ابتدائی طور پر چور گھس آنے کی کہانی سنائی تھی۔
سی پی او راولپنڈی نے بتایا کہ حنا جاوید کے شوہر کو گرفتار کیا گیا جبکہ سُسر کو شاملِ تفتیش کیا گیا۔
جب اُن سے کمیٹی کے ایک رکن نے پوچھا کہ سُسر کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ پولیس افسر نے جواب دیا کہ ایف آئی آر میں جو نامزد ہوتا ہے سب کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔
پیپلز پارٹی کی رُکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے پوچھا کہ کیا سسُر اُسی گھر میں رہتے تھے؟
تو پولیس افسر نے بتایا کہ وہ اوپر والے اپارٹمنٹ میں رہتے تھے۔
سی پی او راولپنڈی کے مطابق گھر کے ملازم ذیشان نے ابتدائی بیان میں گھر میں چور گھس آنے کی کہانی سُنائی تھی۔
سی پی او راولپنڈی سے پوچھا گیا کہ کیا لڑکی کے گھر والوں نے سسر کو نامزد کیا ہے؟ تو پولیس افسر نے جواب دیا کہ سسُر دو، تین دن تھانے میں ہمارے پاس رہے، اگر کسی کو قتل کے کیس میں گرفتار کیا جائے تو اُس کے بڑے نتائج ہوتے ہیں۔
سی پی او کے مطابق جائے وقوعہ سے 19 ثبوت اکٹھے کیے گئے۔
کمیٹی کی ایک رکن نے کہا کہ سسُر کتنے اطمینان سے کہہ رہا تھا کہ وہ تو مر گئی۔
شاہدہ رحمانی نے پولیس افسر سے کہا کہ آپ کے بیان سے لگ رہا ہے کہ سسر گرفتار نہیں ہوگا۔
ناز بلوچ نے کہا کہ جن کی بیٹی گئی ہے آپ ان سے پوچھیں، سسُر کے لیے ایک نرم گوشہ کیوں رکھا جا رہا ہے؟

