اہم خبریں

جج سے مکالمے کے بعد کالم نویس، ولاگر بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

ستمبر 7, 2026

جج سے مکالمے کے بعد کالم نویس، ولاگر بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت نے کالم نویس، ولاگر بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اُن کو نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی تحویل میں دیا ہے-

پیر کو بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے نیکٹا کوآرڈینیٹر فیصل نصیر کی تقرری پر بلال غوری کا ولاگ جج کے سامنے رکھا تو جج صاحب نے پوچھا کہ کیا اس طرح کے الفاظ ادا کرنا مناسب لگتا ہے؟
بلال غوری نے جواب دیا کہ محکمے کی کارکردگی کے بارے میں بات ہو رہی تھی، میں فیصل نصیر کے خلاف نہیں، نیکٹا کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوال کیا ولاگ کے آخر میں کیا کہا ہے؟ بلال غوری نے جواب دیا کہ یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔
جج نے سوال کیا کہ کیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے؟ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے؟ تو بلال غوری نے کہا کہ عدلیہ ایک آزاد ادارہ ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے، سب کمانڈ کے ماتحت ہوتے ہیں۔

اس کے بعد عدالت نے صحافی بلال غوری کو تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔ این سی سی آئی اے نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق:

رات 12 بج کر 10 منٹ پر ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بلال غوری نے 5 ستمبر کو ایکس پوسٹ اور 16 منٹ کی یوٹیوب وڈیو میں کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تقرری پر گفتگو کی،بلال غوری کی کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تعیناتی کے حوالے سے گفتگو من گھڑت اور الزامات پر مبنی تھی،انکوائری کے دوران معلوم ہوا کہ بلال غوری نے جان بوجھ پر من گھڑت گفتگو نا صرف کی بلکہ تشہیر بھی کی،بلال غوری کی پھیلائی گئی گفتگو جھوٹی، گمراہ کن اور بغیر ٹھوس شواہد کی تھی”

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے