گرین کارڈ اور شہریت کی مبینہ فروخت، سابق سینئر امریکی امیگریشن افسر گرفتار
واشنگٹن: امریکی وفاقی حکام نے شہریت و امیگریشن سروس کے ایک سابق سینئر افسر لقمان اوولابی گانیو (Lukman Owolabi Ganiyu) کو امیگریشن فوائد، بشمول گرین کارڈ اور امریکی شہریت، مبینہ طور پر رقم کے عوض منظور کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
وفاقی استغاثہ کے مطابق گانیو کو 2 ستمبر 2026 کو گرفتار کیا گیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے دسمبر 2019 سے مارچ 2026 کے دوران USCIS میں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رقم کے بدلے مستقل رہائش، خاندانی اسپانسرشپ اور نیچرلائزیشن سمیت متعدد امیگریشن درخواستوں کو غیر قانونی طور پر منظور یا تیز رفتاری سے پراسیس کیا۔
تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق گانیو اور ان کے مبینہ ساتھی Adeniyi Akeem Somoye کے درمیان واٹس ایپ پر وسیع رابطے سامنے آئے ہیں۔ حکام کا الزام ہے کہ درخواست گزاروں سے مجموعی طور پر لاکھوں ڈالر وصول کیے گئے۔ تفتیش کاروں نے گانیو کے اکاؤنٹس میں تقریباً 287,830 ڈالر کی غیر واضح نقد رقوم اور Zelle، Cash App سمیت مختلف ذرائع سے تقریباً 671,438 ڈالر کی براہِ راست ادائیگیوں کی نشاندہی کی ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے بعض درخواستوں کی منظوری کے دوران لازمی انٹرویوز، بیک گراؤنڈ چیکس، سپروائزری نگرانی اور دیگر وفاقی طریقۂ کار کو مبینہ طور پر نظرانداز کیا۔ کئی ایسے افراد کو بھی امیگریشن فوائد ملنے کا الزام ہے جو وفاقی قانون کے تحت ان کے اہل نہیں تھے۔
گانیو نے 21 مارچ 2026 کو ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے USCIS سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مقدمے کی تحقیقات USCIS آفس آف انویسٹی گیشنز، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے انسپکٹر جنرل اور ایف بی آئی کے ڈلاس فیلڈ آفس نے کی ہیں۔
دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال وفاقی قید اور 250,000 ڈالر تک جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ الزامات فی الحال استغاثہ کے دعوے ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونا باقی ہے۔

