اہم

سندھ کی جیل میں قید علی وزیر کے خلاف مزید مقدمات کے اندراج پر پولیس سے جواب طلب

ستمبر 8, 2026

سندھ کی جیل میں قید علی وزیر کے خلاف مزید مقدمات کے اندراج پر پولیس سے جواب طلب

سندھ کے ضلع دادو کی جیل میں‌ گزشتہ چھ ماہ سے قید پشتون قوم پرست رہنما علی وزیر کے خلاف مزید مقدمات کے اندراج پر صوبے کی ہائیکورٹ نے پولیس سے جواب طلب کیا ہے-

علی وزیر کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کے حیدرآباد بینچ میں‌ سماعت کے دوران عدالت نے ڈسٹرکٹ جیل دادو میں قید سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف مزید ایف آئی آرز کے اندراج پر پولیس سے تفصیلات طلب کی ہیں۔

عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ علی وزیر کے خلاف زیرِ التوا مقدمات اور درج کی گئیں ایف آئی آرز کی مکمل تعداد سے آگاہ کیا جائے، جبکہ دورانِ حراست اگر ان کے خلاف مزید مقدمات درج کیے گئے ہیں تو ان کا ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے وابستہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو مارچ 2026 میں سکھر جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، تاہم رہائی کے چند گھنٹے بعد ہی پولیس نے انھیں بغاوت کے ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔

بعد ازاں مقامی عدالت نے علی وزیر کو ڈسٹرکٹ جیل دادو منتقل کرنے کا حکم دیا، جہاں وہ اس وقت قید ہیں۔

علی وزیر کو دسمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سے ان پر چار مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ علی وزیر اُس وقت بھی سندھ کی جیلوں‌ میں‌ قید رہے جب وہ وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی تھے اور تحریک انصاف کے دور میں‌ اُن کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی جاتی رہی تھی-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے