اہم خبریں

پنجاب کو اصل خطرہ کس سے ہے؟ علی ارقم کا کالم

ستمبر 8, 2026

پنجاب کو اصل خطرہ کس سے ہے؟ علی ارقم کا کالم

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بیان، اس پر پیدا ہونے والا ہیجان، ریبل راؤزر (Rabble-rouser) ٹویٹر جہادی چوہدری فواد کا تماشا اور دیگر افراد کی اس رولر کوسٹر رائیڈ پر سواری، یہ سب نیا نہیں، نہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے بلکہ "سیاسی گند (Muck)” پھیلانے کی ایک منظم فارنزک سٹریٹجی کا حصہ ہے-

ایچ بی او (HBO) کی سیریز (The Undoing) میں مالدار امیر کبیر مؤکلین کی وکیل ہیلی فٹزجیرالڈ اپنے دفاعی طریقہ کار کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "لوگ مجھے عدالت میں صرف ایک کام کے لیے ہائر کرتے ہیں: ماحول کو پراگندہ یا آلودہ (Muck) کرنا، یعنی اتنا کیچڑ اچھالنا کہ جج و جیوری کے سامنے اصل ملزم اور اس کا جرم اوجھل ہو جائے-

مریم نواز کی تقریر پر زیادہ تر لوگوں نے اعتراض کیا اور اسے خطرناک قرار دیا، سوائے ن لیگ کے اپنے تنخواہ داروں اور مین سٹریم میں جگہ پانے کے خواہشمند پشتون صحافیوں کے جن کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی تقریر نے ان کی آنکھیں کھول دی ہیں اور وہ پشتونوں کو خود احتسابی کا کہہ رہے ہیں-

جیسے صحافی حامد میر نے ہمارے ہاں رائج دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے لکھا، "پڑوسی ملک کو دہشت گردی کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دینے اور سارا ملبہ اپنے ہی ملک کے چھوٹے صوبوں پر ڈالنے کی جو آزادی اور استثنا پنجاب کی وزیراَعلیٰ کو حاصل ہے، وہ اگر خیبر پختونخوا یا بلوچستان کا کوئی سیاست دان، قوم پرست یا رہنما استعمال کر لے تو اس پر فوراً غداری، ملک دشمنی اور ‘ریاست مخالف بیانیے’ کے ٹھپے لگا دیے جاتے ہیں۔”

پشتون دوستوں کو باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست نظام سالارزئی نے مشورہ دیا،
"I see so many able Pashtuns giving explanations to so many useless pawns with zero interest in their explanations. Brothers, come out of the mindset of explaining yourself to them. They only want you agitated. Have your qahwa and watch them wriggle in absence of your attention.”
لیکن ہم تو ہم ہیں، سو فواد چوہدری خوب رش لے رہے ہیں، کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ فواد چوہدری کی پشتون قبائلیت کی دلیل ان کی زوجہ کو اتنی پسند آئی کہ وہ کاکڑ فرام کوئٹہ بن گئی ہیں، خیر-

اس پوری گرد میں ایک اہم معاملہ جس کی طرف معروف آئینی وکیل اسد جمال ایڈوکیٹ نے اشارہ کیا ہے، سیکیورٹی ہیجان کی اصل بنیاد کو بے نقاب کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں،
“اس ساری گفتگو کا اک مقصد نئی انسداد دہشت گردی عدالتیں بنانے کے ڈسکورس کو پروموٹ کرنا بھی ہے۔ ایسی عدالتیں جو فوجی عدالتوں کی جگہ لے سکیں، بغیر چہرے کی عدالتوں (faceless courts) کی شکل میں۔ موجودہ انسداد دہشت گردی کا نظام نواز شریف کی ایجاد ہے اور ان کی صاحبزادی اسی نظام کو ایک نئی شکل دے رہی ہیں۔”
1997ء میں نواز شریف حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA 1997) کے ذریعے عام عدالتی نظام کے متوازی ایک ڈھانچہ قائم کیا تھا، 31 اگست 2026ء کو پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والا انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیم) بل 2026، جو ایکٹ میں ایک نئی دفعہ 21AAA شامل کرتا ہے، اسی سلسلے کی ایک جابرانہ کڑی ہے:
حکومت ایک گمنام BS-20 کے بیوروکریٹ ("نامزد اتھارٹی”) کے ذریعے کسی بھی کیس کو "خاص سیکیورٹی کیس” قرار دے سکتی ہے۔
جج، پراسیکیوٹر، دفاعی وکیل، پولیس اور گواہوں کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔
سماعتیں ویڈیو لنک یا صوتی ٹیکنالوجی سے آوازیں بدل کر کی جائیں گی اور فیصلے محض عہدے کے ٹائٹل سے جاری ہوں گے۔
تمام فائلیں سیل رہیں گی، جس سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل) اور آرٹیکل 175(3) (عدلیہ کی آزادی) کے بنیادی حقوق سلب ہو جاتے ہیں-

مریم نواز کا بیانیہ جمع فواد چوہدری کا استدلال
کیا پنجاب میں دہشتگردی واقعی کوئی مسئلہ ہے؟
یا یہ نیا نظام بھی سیاسی طور پر ناپسندیدہ عناصر یا تنقید کرنے والوں کا پیچھے کرنے کا نیا ڈریکونین حربہ ہے؟
ذرا دہشتگردی کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد کا موازنہ پنجاب میں انسدادِ جرائم کیلئے تشکیل دیے گئے نئے ادارے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے ہاتھوں ہونے والے پولیس مقابلوں اور حراستی ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے کریں۔ تو یہ ایک بھیانک انسانی و قانونی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور مختلف بار کونسلز کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ دو سالوں کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 1,200 سے زائد مشتبہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں-

ان تمام واقعات میں سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی بھاری تعداد کے مقابلے میں پولیس یا سی سی ڈی اہلکاروں کی ہلاکتوں یا شدید زخمی ہونے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، جو ان تمام کارروائیوں کے یکطرفہ ہونے کے الزامات کو تقویت دیتی اور قانونی عمل پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے
ایچ آر سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سی سی ڈی اور پولیس کے تیار کردہ ایف آئی آرز (FIRs) کا متن ایک ہی جیسے روایتی اور بوگس اسکرپٹ پر مبنی ہوتا ہے-

ہر واقعے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملزم پہلے سے پولیس کی حراست میں تھا اور اسے مالِ مسروقہ یا دیگر روپوش ساتھیوں کی نشاندہی کے لیے کسی ویران جگہ لے جایا جا رہا تھا، جہاں پہنچتے ہی پہلے سے گھات لگائے بیٹھنے والے "نامعلوم ساتھیوں” نے اپنے ہی ساتھی کو چھڑانے کیلئے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں زیرِ حراست ملزم اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ یا اکثر تو ایسا ہوا کہ ملزم اپنے ہی نیفے میں اڑسے اسلحے کے اچانک فائر ہونے سے موقع پر ہی زخمی ہوگیا یا مارا گیا-

ویسے اگر فواد چوہدری سے ان بارہ سو ہلاکتوں کی تاویل کرنے (Muck) کا کہا جائے تو وہ کیا کہیں گے، تصور کرتے ہیں، شاید کچھ انہی لائنز پر:
"دیکھیں، اس معاملے کو سمجھنے کیلئے آپ کو تہہ میں جانا پڑے گا۔ یہ جو ہمارے ہاں ملزم کے نیفے میں اچانک فائر ہو جانے کا عذاب ہے، اسے پولیس کا قصور نہ سمجھا جائے۔ یہ بنیادی طور پر ملزم کے اپنے آلہ تناسل، اس کی انا اور ہتھیار یعنی پستول کے درمیان صدیوں سے جاری قدیم قبائلی جنگ ہے-
صدیوں سے لوگ نیفے کے ساتھ نیام میں تلوار رکھتے تھے، اب اس کی جگہ بغیر سیفٹی کیچ کے 30 بور کا پستول ٹھونس دیتے ہیں، تو ظاہر ہے وہاں تناؤ پیدا ہوگا اور فائر چلے گا-
آپ ذرا نیفے میں فائر کے پچھلے کیسز نکال کر دیکھ لیں! اس میں بیچاری سی سی ڈی کا کیا قصور؟ برائے مہربانی اسے کسی محکمے کے خلاف نہ سمجھا جائے، لیکن جب تک لوگ ہولسٹر کے بجائے نیفے میں پستول ٹھونسنا نہیں چھوڑیں گے، یہ حادثاتی فائر ہوتے رہیں گے”
مشر محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے فلور پر کہا تھا کہ اگر ریاست خود آئین توڑے گی تو ‘انسدادِ دہشت گردی’ کا یہ عمل بذاتِ خود ریاست کی طرف سے ایک طاقت کا ننگا ناچ بن جائے گا-
خدا جانے پنجابیوں کو دہشتگردی سے زیادہ خطرہ ہے یا انسداد دہشتگردی کے ڈریکونین قوانین سے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے