’مروجہ پالیسی ہدایات‘ کے تحت پاکستان کے تمام میڈیکل کالجز سے افغان طلبہ بے دخل
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے یکم ستمبر کو جاری کی گئی ہدایات کے بعد ملک بھر کے میڈیکل کالجز نے افغان طلبہ کو بے دخل کرنا شروع کر دیا ہے-
لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، یونیورسٹی نے پیر کو جاری کیے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے 11 افغان طلبہ کو 24 گھنٹوں میں اپنا حساب کتاب کر کے نکلنے کے لیے کہا ہے-
اسلام آباد میں واقع پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے دفتر نے یکم ستمبر کو ملک بھر کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے پرنسپلز، ڈینز اور سربراہان کے نام جاری کے خط میں افغان طلبہ کو نکالنے کی ہدایات جاری کی تھیں-
‘میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں زیرِ تعلیم افغان شہریوں کی حیثیت کے حوالے سے ہدایات دہرانے’ کے عنوان سے جاری اس خط میں 31 جولائی 2026 کے خط کا حوالہ دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ‘یہاں اس بات کو دہرایا جاتا ہے کہ تمام داخلہ دینے والی یونیورسٹیاں اور ان سے ملحقہ سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل ادارے مذکورہ خط میں درج ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کے پابند ہیں۔ بالخصوص، موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے اگلے احکامات تک افغان شہریوں کے کسی بھی داخلے، پلیسمنٹ، تبادلے، مائیگریشن یا سہولت کی کسی بھی دوسری شکل کی اجازت نہیں ہے۔’
پی ایم ڈی سی کے مطابق ‘مزید یہ بھی دہرایا جاتا ہے کہ پاکستان کے میڈیکل یا ڈینٹل پروگراموں میں پہلے سے زیرِ تعلیم افغان شہریوں کا مروجہ پالیسی ہدایات کے مطابق افغانستان واپس جانا لازمی ہے۔ متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام ضروری انتظامی امور، بشمول مطلوبہ این او سی (NOC) کا اجراء اور ان کی روانگی کی سہولت، اسی کے مطابق مکمل کیے جائیں۔’
کونسل نے میڈیکل کالجز سے کہا ہے کہ جن اداروں نے ابھی تک مطلوبہ تعمیل رپورٹ (Compliance Report) جمع نہیں کروائی، انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ یہ خط جاری ہونے کے تین دنوں کے اندر ای میل کے ذریعے مکمل تفصیلات کے ساتھ رپورٹ فراہم کریں۔
پی ایم ڈی سی نے خط کے آخر میں کہا ہے کہ ‘یہ معاملہ انتہائی ترجیحی ہے اور قومی پالیسی کی ہدایات سے متعلق ہے۔ اور دی گئی ہدایات کی عدم تعمیلی، بشمول تاخیر، غفلت، معلومات چھپانا یا غیر مجاز داخلہ/سہولت کاری، کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس پر PM&DC ایکٹ 2022 کے تحت قانونی و ریگولیٹری کارروائی کی جا سکتی ہے۔’
خیال رہے کہ اسی طرح کے ایک اور فیصلے کے تحت پی ایم ڈی سی نے افغانستان سے میڈیکل کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے-