اہم

’ملزم خوش قسمت کہ ساتھی کی فائرنگ سے نہ مرا‘، سپریم کورٹ جج کا پولیس مقابلوں‌ پر طنز

ستمبر 11, 2026

’ملزم خوش قسمت کہ ساتھی کی فائرنگ سے نہ مرا‘، سپریم کورٹ جج کا پولیس مقابلوں‌ پر طنز

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پولیس پر فائرنگ کے مقدمے میں‌ نامزد ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ججز نے پنجاب میں‌ مبینہ مقابلوں‌ پر طنز کیا ہے-

جمعے کو ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران ملزم مطیع اللہ کے وکیل کی جانب سے دلائل میں‌ عدالت کو بتایا گیا کہ یہ مقدمہ ملزم کی گرفتاری کے بعد بنایا گیا ہے-

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل کے دلائل کے دوران ریمارکس دیے کہ آپ (ملزم) خوش قسمت ہیں کہ ساتھی کی فائرنگ سے صرف ٹانگ پر گولی لگی-

اُن کا کہنا تھا کہ خوش قسمت ہیں کہ یہ ملزم ساتھی کی فائرنگ سے مرا نہیں-

پنجاب کے سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر پہلے بھی 16 سے زائد مقدمات ہیں-
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے پنجاب میں‌ مبینہ پولیس مقابلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے طنز کیا کہ پھر تو بہتر ہے ملزم جیل میں رہے، ہو سکتا ہے ملزم باہر آ کر ساتھیوں کی فائرنگ سے مر جائے-

ملزم مطیع اللہ کے وکیل نے اس پر عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ہاف فرائی کیا گیا ہے فل فرائی نہیں- (پنجاب میں‌ جعلی پولیس مقابلوں میں‌ زیرِحراست ملزمان کے قتل کو فُل فرائی جبکہ ٹانگ میں‌ گولی مار کر ناکارہ بنا دینے کو ہاف فرائی کہا جاتا ہے)-

جسٹس جمال مندوخیل نے پنجاب پولیس کے مقابلے کرانے والے کے بارے میں کہا کہ کیا یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ اور پوچھا کہ ہاف فرائی فل فرائی کیا ہوتا ہے؟

ملزم کے وکیل نے بتایا کہ ہاف فرائی میں ٹانگ پر گولی، فل فرائی ملزم مار دیا جاتا ہے-

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ اگر وہ کہتے ہیں تو ضمانت دے دیتے ہیں وگرنہ ملزم جیل میں محفوظ ہے، سرکاری خرچ پر ملزم کی حفاظت کی جارہی ہے-

ملزم ارشاد راولپنڈی میں پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ہے جس کی ضمانت ہائیکورٹ سے مسترد ہونے کے بعد اب سپریم کورٹ نے منظور کر لی ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے