نوازشریف نے ہی ثاقب نثار کو جج لگایا
سابق چئیرمین متروکہ وقف املاک صدیق الفاروق نے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی ہے اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے ماضی میں بطور وکیل تقرر کا بھی ذکر کیا ہے ۔
نظرثانی درخواست میں صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے کٹاس راج ازخود نوٹس کیس کووارنٹو میں تبدیل کیا، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں زیرسماعت مقدمے کو بھی مدنظرنہیں رکھا، درخواست گزار کے تقرر میں اقربا پروری نہیں تھی، درخواست گزار کا تقرر نوازشریف نے بطور چیف ایگزیکٹو کیا ۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف نے ہی ثاقب نثار کو سیکرٹری قانون اور ہائی کورٹ کا جج لگایا، میری اور ایڈووکیٹ ثاقب نثار کی تقرریاں میرٹ پر تھیں، اگر میرا تقرر اقربا پروری ہے ثاقب نثار کا بطور جج ہائی کورٹ تقرر بھی سیاسی تھا ۔
صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے میری تذلیل کی، میرے بارے میں کہا گیا اخباریں اکٹھی کرنے والے کو چئیرمین لگا دیا، میرے خلاف فیصلے پر نظرثانی کی جائے ۔

