عدالت: تین بیٹیاں ماں کے ساتھ
سپریم کورٹ نے یورپی ملک لتھوینیا کی شہری میمونہ کی تین بیٹیوں کو دو ہفتے تک ماں کے ساتھ رہنے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے میمونہ اور اس کے سابق شوہر جمشید صدیقی کو پاسپورٹ سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں جمع کرانے کیلئے کہا ہے ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالت بنچ نے حکم دیا ہے کہ سابق شوہر لتھوینین میمونہ کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ رہنے کا بندوبست کریں اور اسکول کے بعد سابق شوہر بچوں کو والدہ کے پاس چھوڑیں گے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ ڈی پی او گوجرانوالہ خاتون اور بچوں کی سیکورٹی کا بندوبست کریں ۔
اس سے قبل عدالت کی ہدایت پر میمونہ کی تین بیٹیوں سے ملاقات کرائی گئی ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق وقفے کے بعد چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بچوں نے والدہ سے ملاقات کرلی ہے؟ وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ عدالت والدہ کو ملنے کا مزید وقت دے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ والدہ غیرملکی ہے بچوں کو لے کر کہاں جائیں گی ۔ وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ والدہ کو بچیوں سے ملنے کے لئے جگہ فراہم کر سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج بچوں کو اسلام آباد گھما دیں، بچیاں بڑی ہیں کوئی مس ہیپ ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ بچیوں کوشہر سے باہر والد کی نگرانی میں لے جایا جاسکے گا، والد بچیوں کے نیچرل گائیڈ ہیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کی کتنی بدنصیبی ہے کہ والدہ کو پہچان نہیں سکتے، میمونہ بچیوں کی والدہ ہے، والدہ کا پیار لینا بچیوں کا حق ہے، دکھ ہوا سات سال بچھڑنے کے بعد بچیاں والدہ کو پہچان نہیں رہیں ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس نے بچیوں کی والدہ میمونہ سے کہا کہ بچوں کو لے کر جائیں اور ان سے پیار کریں ۔ میمونہ نے کہا کہ عدالت اور آپ کی شکر گزار ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بچیوں کا خیال رکھیے گا ۔ سماعت دوہفتوں کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔

