پاکستان پاکستان24

اسد عمر اور چیف جسٹس کا مکالمہ

جنوری 15, 2019

اسد عمر اور چیف جسٹس کا مکالمہ

نئی گاج ڈیم تعمیر کیس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے چیف جسٹس سے کہا کہ تاریخ آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی جبکہ ایک وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت پر ہم آپ کو مس کریں گے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اللہ خیر کرے گا ۔

وزیر خزانہ اسد عمر عدالت کے بلانے پر تین رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ نہیں سمجھتا حکومت ڈیم بنانے کے لیے سنجیدہ ہے ۔ اسد عمر نے بتایا کہ ایکنک کے پاس ابھی نئی گاج ڈیم کا معاملہ نہیں آیا، کل بتایا گیا کہ نئی گاج ڈیم کا معاملہ ایکنک میں 25 جنوری کو رکھا جائے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے حکومت کے اداروں کے مابین تعاون نہیں، حکومت کا مطلب حکومت اور فیڈریشن کا مطلب فیڈریشن ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کا مسئلہ جن پیرامیٹرز پر حل کرنا چاہیے ایسے تو حل نہیں ہو پائے گا ۔ حکومت کو ڈیم بنانے کیلئے ترجیح بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہیں ۔

وزیر خزانہ اسد عمر جب کوئی معاملہ ایکنک کے پاس آتا ہے تب معلوم ہوتا ہے، مجھے زبانی طور پر بتایا گیا، ایکنک میٹنگ سے متعلق تحریری طور پر ابھی آگاہ نہیں کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا حکومت کا آپس میں رابطوں کا فقدان ہے،  وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے جواب دیا کہ ایسا ہوسکتا ہے ۔

چیف جسٹس نے جوائنٹ سیکرٹری پلاننگ ارشد علی سے کہا کہ ملک کیلئے آپ کی محبت کم ہوتی جا رہی ہے، ملک کیلئے کام کرنے کا جزبہ اور ارادہ نہیں رکھتے، ہمیں یہ بات بار بار دہرانا اچھا نہیں لگتا، ہم نہ حکومت کو چلانا چاہتے ہیں نہ ہی اسے ہدایات دینا چاہتے ہیں، ہمارا مقصد یہ ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو ۔

چیف جسٹس نے وفاقی وزیر خزانہ کی تعریف بھی کی اور کہا کہ امید ہے ایکنک میٹنگ میں معاملے کا مثبت حل نکلے گا ۔ اسد عمر نے جواب میں کہا کہ  تاریخ آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے چیف جسٹس سے کہا کہ ہم کیس کی آئندہ تاریخ پر آپ کو مس کریں گے ۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ اللہ خیر کرے گا ۔

عدالت نے نئی گاج ڈیم معاملے کو 25 سے 27 جنوری کے درمیان ایکنک میں زیر بحث لانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے