جنگ کسی مذہب کے خلاف نہیں، سشما سوراج
اسلامی ملکوں کے تعاون کی تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس ابوظہبی میں شروع ہو گیا ہے جس کے افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے انڈیا کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ ’انتہا پسندی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔‘
سشما سوراج نے کہا کہ ’جو ملک انتہا پسندی کو پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور انھیں مالی تعاون دیتا ہے، اسے شدت پسندی کے کیمپوں کو ختم کرنے کے لیے کہا جانا چاہیے۔‘
اانڈیا کی وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ ایک وبائی مرض ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسے مختلف طریقوں سے چلایا جا رہا ہے۔
سشما سوراج کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم انسانیت کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں یقیناً شدت پسندوں کی فنڈنگ کرنے والے اور انھیں پناہ دینے والے ممالک سے ان کی زمین پر شدت پسند کیمپوں کے بنیادی ڈھانچوں اور پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے کہنا چاہیے۔‘
اجلاس میں شرکت کے لیے ابوظہبی پہنچنے پر انڈیا کی وزیرخارجہ سشما سوراج کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔

سشما سوراج نے اجلاس سے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس دیس سے آئی ہوں جہاں مہاتما گاندھی کی وجہ سے ہر عبادت کے بعد امن اور شانتی کی دعا مانگی جاتی ہے۔؛
یہ پہلا موقع ہے کہ انڈیا اسلامی ملکوں کے اجلاس میں شرکت کر رہا ہے ۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈیا کو دعوت دینے کی وجہ سے اسلامی ملکوں کی تنظیم کے اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔


