متفرق خبریں

بنی گالہ کیس نئے رخ پر چلا گیا

اپریل 4, 2019

بنی گالہ کیس نئے رخ پر چلا گیا


پاکستان کی سپریم کورٹ سینئر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت بنانے کا مقصد ہی فوت ہو گیا، پہاڑوں کے پہاڑ اور جنگلوں کے جنگل ختم کر دیے ہیں، ندیاں نالے گندگی کے ڈھیر بن چکے ہیں، کیا اسلام آٓباد کو کچی آبادی بنانا چاہتے ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے یہ ریمارکس وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے علاقے بنی گالہ میں تجاوزات کے مقدمے میں دیے ۔

جسٹس گلزار احمد نے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے سربراہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ’چیرمین سی ڈی اے صاحب! لولی پاپ نہ دیں، کام نہیں کرنا تو کسی اور جگہ چلے جائیں ۔

سپریم کورٹ میں بنی گالا تجاوزات از خود نوٹس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی ۔ چئیرمین سی ڈی اے عامر احمد علی عدالت پیش ہوئے تو جسٹس گلزار احمد نے چئیرمین سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ چیرمین صاحب بتائیں کیا آپ نےعدالتی حکم پر عمل درآمد کیا ہے ۔

انہوں نے جواب دیا کہ مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ جسٹس گلزار احمد نےچیرمین سی ڈی اے سے کہا کہ کیا آپ سارے اسلام آباد کو کچی آبادی بنانا چاہتے ہیں، نئے ائیرپورٹ پر جا کر دیکھیں کیا ہو رہا ہے وہاں پر۔ پہلے مجھے لگا یہ صورتحال صرف کراچی میں ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت بنانے کا مقصد ہی فوت ہو گیا ہے،آپ نے پہاڑوں کے پہاڑ اور جنگلوں کے جنگل ختم کر دیے ہیں۔ ندیاں نالے گندگی کے ڈھیر بن چکے ہیں، آپ نے راول جھیل کا کیا حال کر دیا ہے، آپ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ اگر آپ اس قابل نہیں ہیں تو یہاں بیٹھے کیوں ہیں،اس سے بہتر ہے آپ کسی اور جگہ تشریف لے جائیں، آپ کو پلاٹ تو مل گیا ہو گا۔

چئیرمین سی ڈی اے کہا اگر آپ مجھے موقع دیں تو کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چیرمین سی ڈی اے صاحب ہمیں لالی پاپ نہ دیں، میں جب سے اسلام آباد آیا ہوں دیکھ رہا ہوں آپ سے کشمیر ہائی وے مکمل نہیں ہوا، کشمیر ہائی وے پر سٹرکچر کو ادھورا چھوڑ رکھا ہے۔ کبھی یہ نہیں سوچا ان جگہوں پر جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں۔ ان جگہوں پر بھنگی اور چرسی بیٹھے ہوتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی کارکردگی ہے۔ آپ کا بس ایک ہی کام ہے پلاٹ بنا کر بیچتے رہیں اور کچی آبادیاں بناتے رہیں۔ میں تو حیران ہوتا ہوں کیا یہ اسلام آباد ہے۔ یہاں کی حالت کراچی اور لاہور سے بھی بدتر ہے۔

چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ انشا اللہ ہم کام کریں گے ۔ جسٹس گلزار نے پوچھا کہ ’انشا اللہ کا کیا مطلب؟ بتائیں آپ کی کیا پلاننگ ہے؟ آپ کہتے ہیں تو سی ڈی اے اور مونسپل کارپوریشن اسلام آباد کو تحلیل کر دیتے ہیں۔ وہ کون سا مبارک دن آئے گا جب آپ کام کریں گے۔ وہ چاند کب نکلے گا؟۔

چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ مجھے ایک ماہ کا وقت دیں میں کارکردگی دکھاؤں گا۔

مقدمے کی مزید سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے