مردم شماری کے نتائج میں تاخیر کیوں ؟
رپورٹ: عبدالجبارناصر
چھٹی مردم شماری 2017ء کو دو سال گرزنے کے باوجود حکومت حتمی نتائج جاری کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ہے ،مردم شماری کے حتمی نتائج میں تاخیر سے ملک میں کنٹونمنٹ ایریاز ، وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا بروقت انتخاب سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ 10 فیصد بلاکوں کی تفصیلی مردم شماری اور 5 فیصد سیمپل سروے کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے ، محکمہ شماریات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنا کام مکمل کیا ہے ،تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں کے مابین رسہ کشی مردم شماری کے باعث مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری وفاقی حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔
چھٹی مردم شماری 2017ء مارچ میں ہوئی ہے اور محکمہ شماریات نے اگست 2017 ء عبوری نتائج جاری کئے ، 2018ء اگست تک مکمل نتائج جاری کرنے تھے مگر اب تک حکومت حتمی نتائج جاری نہیں کرسکی ہے ۔ ماضی میں ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر نہ صرف حتمی نتائج جاری ہوتے بلکہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی رپورٹس بھی شائع ہوچکی ہوتی تھیں ۔ جن کی بنیاد پر مستقبل کے معاملات کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ شماریات نے اپنا بیشتر کام مکمل کرکے حکومت کو دے دیا ہے اور اب ضلعی پروفائلنگ کا کام جاری ہے ، جو وفاقی حکومت کی جانب سے حتمی نتائج جاری ہونے کے بعد ہی مکمل ہوسکتا ہے ۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے 5 فیصد دوبارہ بطور سیمپل مردم شماری کی قرار داد کی منظوری اور ایم کیوایم پاکستان اور تحریک انصاف کے مابین شراکت اقتدارکے معاہدے میں حکومت کی جانب سے تائید کے بعد حکومت کافی مشکل میں ہے۔
حکومت 5 فیصد دوبارہ مردم شماری کی شرط پوری کئے بغیر حتمی نتائج جاری کئے گئے تو اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے اور بھی کہ اب دوسال بعد 5 فیصد دوبارہ مردم شماری کی گئی تو عمومی نتائج میں بہت فرق پڑ سکتا ہے جس سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگا۔ اس لئے اس بات پر مشاورت جاری ہے کہ تما اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے 5 فیصد سیمپل مردم شماری اور فارم ’’2 اے ‘‘ کے مطابق 10فیصد بلاک تفصیلی مردم شماری کے بغیر حتمی نتائج جاری کئے جائیں ۔
ذرائع کا کہنا کہ اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ ’’ فارم 2 اے‘‘ کے ضمن میں مختلف اداروں کے تعاون سے ایک ڈیٹا تیار کرنے کی کوشش کی جاررہی ہے۔ اس ضمن میں ’’نادرا‘‘ کا ڈیٹا انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ’’فارم 2 اے‘ میں مختلف امور کے حوالے سے 50 سے زائد سوالات ہیں اور اسی کی بنیاد پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔
ایم کیوایم پاکستان کے ذرائع کاکہنا ہے کہ ہم 5 فیصد دوبارہ مردم شماری کے موقف پر قائم ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ میں چھٹی مردم شماری کئے نتائج جاری اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے صوبوں اور وفاق نے قانون سازی نہیں کی تو کنٹونمنٹ ایریاز، وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبوں بر وقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد سوالیہ نشان ہوگا ۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کمیشن نے حکومتوں کو اپنی تشویش سے آگاہ کیاہے۔

