پاکستان

’ہندو لڑکیاں بالغ اور مسلمان ہیں‘

اپریل 11, 2019

’ہندو لڑکیاں بالغ اور مسلمان ہیں‘

پاکستان میں مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیلی کا مقدمہ دو بہنوں کی عمر کے تعین پر قائم میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ختم ہوتا نظر آ رہا ہے ۔

سندھ کے علاقے گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے بارے میں پہلے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ نابالغ اور کم عمر ہیں جبکہ ان کو زبردستی ہندو مذہب چھڑا کر مسلمان کیا گیا ہے ۔

جمعرات کو لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنے کے معاملے پر سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق لڑکیاں بالغ ہیں جن کی عمریں 19 اور 18 سال ہے۔

سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ زبردستی مذہب تبدیل کرانے کا کیس نہیں لگتا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رپورٹ میں یہ چیز سامنے آچکی کہ لڑکیاں بالغ ہیں اور مرضی سے مذہب تبدیل کیااس لیے ان کو شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ انکوائری کمیشن 14 مئی تک تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ احکامات کے مطابق لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ہمیں کمیشن ممبران کو اکٹھے کرنے کا بھی کہا تھا، کمیشن کے دو ممبران ملک میں نہیں تھے باقی سب سے رابطہ ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی اے رحمان کے ساتھ مل کر دونوں لڑکوں سے ان کی رائے جانیں گے جبکہ شیری مزاری سمیت کمیشن کے دیگر ارکان لڑکیوں سے ملاقات کریں گے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ میڈیکل بورڈ کے مطابق آسیہ کی عمر انیس جبکہ نادیہ کی اٹھارہ سال ہے ۔

انکوائری کمیشن کے ممبر آئی اے رحمان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ہماری انکوائری کے مطابق لڑکیوں نے مذہب زبردستی تبدیل نہیں کیا تاہم یہ تاثر ضرور موجود ہے کہ ایک منظم گروپ گھوٹکی کے علاقے میں لوگوں کو تبدیلی مذہب کی ترغیب دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت اگر اس گروپ سے متعلق ہدایات جاری کر دے تو بہتر ہو گا ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ سندھ کا علاقہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ۔
ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف تحفظ ہونا چاہئے بلکہ تحفظ نظر بھی آنا چاہئے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات سامنے آچکی کہ لڑکیاں بالغ ہیں اور مرضی سے مذہب تبدیل کیا۔ لڑکیوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہ سکیں ۔


عدالت نے لڑکیوں کو شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو لڑکیوں اور ان کے شوہروں کی حفاظت کا بندوبست کرنے کے لیے کہا ۔
عدالت نے انکوائری کمیشن سے14مئی تک حتمی سفارشات پر مبنی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی


نو مسلم لڑکیوں کے شوہر عدالتی فیصلے کے بعد

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے