جسٹس فائز کے خلاف ریفرنس نامنظور
پاکستان میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف حکومت کے دائر کردہ ریفرنس پر ملک بھر میں وکلا تنظیموں نے غم غصے کا اظہار کیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس مسترد کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بار کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس من گھڑت اور بدنیتی پر مشتمل ہے۔ ”حکومت جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس واپس لے۔“
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بار ایسوسی ایشن صدر پاکستان کے جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی مذمت کرتی ہے۔”جسٹس قاضی فائز انتہائی دیانتدار اور اصول پسند جج ہیں۔“
اعلامیے کے مطابق جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس اور کوئٹہ کمیشن رپورٹ کے جواب میں دائر کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے اس معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مستعفی ہونے کے عمل کو قابل ستائش قرار دیتے ہیں۔
بار کے مطابق ”جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کی تضحیک ہے۔“

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والے کردار وزیر قانون فروغ نسیم، صدر عارف علوی اور اٹارنی جنرل انور منصور کراچی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ اس کی مذمت کی پہلی قرارداد اور آواز بھی کراچی میں سندھ ہائیکورٹ بار سے اٹھی ہے۔

