پاکستان

جسٹس فائز کے صدر کو خط کا مکمل متن

جون 4, 2019

جسٹس فائز کے صدر کو خط کا مکمل متن

ڈیئر مسٹر پریزیڈنٹ! 28 مئی کو میں نے آپ کو ایک خط لکھا تھا اور کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے درخواست کی تھی کہ مجھے اس ریفرنس کی ایک کاپی دی جائے جو مبینہ طور پر آپ نے میرے خلاف دائر کیا تھا۔ نہ آپ نے اور نہ محترم وزیراعظم نے (جنہیں میں نے خط کی نقل بھیجی تھی) اتنی کہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی ہی مہیا کر دیتے جو میرے خلاف بھیجا گیا ہے۔

جناب صدر! آئین کی شق 209 کے تحت صدر مملکت کو کسی جج کے خلاف ریفرنس بھیجنے سے پہلے ذاتی طور پر تصدیق کرنی چاہیے کہ متعلقہ جج ذہنی اور جسمانی طور پر معذور تو نہیں نیز یہ کہ اس نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔
میں ریفرنس بھیجنے کے بارے میں آپ کے آئینی اختیار پر سوال نہیں اٹھا رہا۔ لیکن یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ کیا حکومت نے آپ کے سامنے وہ تمام حقائق رکھے تھے جن کی بنیاد پر آپ نے یہ رائے قائم کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے میرے بارے میں استصواب کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے ابھی مجھے نوٹس بھی جاری نہیں کیا تھا اور مجھے ابھی اس کا جواب دینے کا موقع بھی نہیں ملا تھا کہ ذرائع ابلاغ پر میرے خلاف ایک مہم چلائی گئی جس کی نوعیت ایسی تھی کہ اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے بے معنی ہو جاتی۔ جب اس مہم سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوتے نظر نہ آئے تو حکومتی عہدے داروں نے اپنی منصبی ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہوئے متعلقہ پراپرٹی کی دستاویزات بھی ذرائع ابلاغ کو لیک کر دیں۔ قانونی طور پر صرف سپریم جوڈیشل کونسل کی ان دستاویزات تک رسائی ممکن تھی۔ میڈیا سے بات چیت میں ریفرینس کے حوالے کہا گیا کہ میرے خلاف “احتساب کا شکنجہ” حرکت میں آئے گا۔ جناب صدر! کیا یہ مناسب طرز عمل ہے؟ کیا یہ طرز عمل آئین کے مطابق ہے؟

کیا جن حکومتی ارکان نے اس ریفرنس کے حوالے سے معلومات لیک کیں، انہوں نے اپنے حلف سے روگردانی نہیں کی؟

تاہم میڈیا اطلاعات کی بنیاد پر میں فرض کر رہا ہوں اس ریفرنس میں لندن کی ان تین جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے جو میری بیوی اور میرے بچوں کے نام پر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میرے بیوی بچوں کے نام ان جائیدادوں سے یہ نتیجہ کیسے نکلتا ہے کہ میں مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہوں۔ میں نے ٹیکس ادا کرتے ہوئے اپنے اثاثوں میں ان جائیدادوں کا ذکر نہیں کیا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116 (اے) انکم ٹیکس کمشنر کسی بھی شخص سے ایک مخصوص فارم پر نوٹس جاری کر کے معلومات دریافت کر سکتا ہے۔ ان معلومات میں اس شخص کے کل اثاثے اور واجبات، اس کی اہلیہ، اس کے نابالغ بچوں اور دیگر زیر کفالت افراد کے اثاثے اور واجبات دریافت کئے جا سکتے ہیں۔

مجھے آج تک انکم ٹیکس کے کسی افسر سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ میرے بچے میرے زیر کفالت نہیں ہیں۔ میرے بچے بالغ شہری ہیں اور ایک طویل مدت سے میرے زیر کفالت نہیں ہیں۔ میری اہلیہ بھی میرے زیر کفالت نہیں ہیں۔ میری اہلیہ اور میرے بچے خود مختار ہیں اور ان کے اپنے ذرائع آمدنی ہیں۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 116 (اے) کوئی تعزیراتی قانون نہیں ہے اور اگر معلومات میں کوئی کمی بیشی پائی جائے تو اسے دور کیا جا سکتا ہے۔


جناب صدر! حکومتی ارکان نے ادھورے سچ بول کر اور اشارے کنائے سے مجھے، میری اہلیہ اور میرے اہل خانہ کو بدنیتی سے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ معاملہ میرے لئے اور میرے اہل خانہ کے لئے انتہائی اذیت ناک ہے۔ کیا اس کا مقصد ہماری نجی زندگی میں مداخلت کرنا اور کچھ ایسے پہلو دریافت کرنا تھا جو دراصل موجود نہیں ہیں۔ چناچہ میں مجبور ہوا ہوں کہ اس معاملے کو سامنے لاؤں تاکہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے ان انتہائی اذیت ناک الزامات کا جواب دے سکوں اور ان جھوٹی خبروں کو بے نقاب کروں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور اپنے دو بچوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ عبد الحق کھوسو اور مرحومہ فیلیسا کیریرا (ہسپانوی شہری) کی صاحبزادی ہیں اور اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی بیٹی کی عمر 31 برس ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ ان کے صاحبزادے کی عمر 28 برس ہے۔ دونوں نے بیرون ملک مختلف اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور بیرون ملک مقیم ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے والد (مرحوم قاضی عیسیٰ) بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے اور ان کی اپنی صاحبزادی بلوچستان کی پہلی خاتون بیرسٹر ہیں۔

حکومتی اہل کاروں کو یقیناً علم ہو گا کہ میرے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک قانونی طور پر کاروبار کر رہے تھے۔ وہ لندن کی جن جائیدادوں کے مالک ہیں، وہ ان کے اپنے نام رجسٹرڈ ہیں۔ میری اہلیہ اور بچے خود وہاں مقیم ہیں۔ میرا ان جائیدادوں سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ ان جائیدادوں کو چھپایا جائے۔ نہ کبھی انہیں کسی ٹرسٹ کی ملکیت دکھایا گیا ہے اور نہ میں نے کبھی کوئی آف شور کمپنی بنائی۔

مجھ پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے کہ میں اپنے مالی معاملات پبلک کروں لیکن میں رضاکارانہ طور پر ایسا کر رہا ہوں کیونکہ میرے کردار پر شک کیا گیا ہے۔ میں ٹیکس قوانین کا مکمل طور پر پابند ہوں۔ میں ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کرتا ہوں۔ مجھے زندگی میں کبھی اپنے بارے میں یا میری اہلیہ اور بچوں کے تعلق سے ٹیکس کا کوئی نوٹس نہیں ملا۔ میں نے جب سے قانون کا پیشہ اختیار کیا، میں واجب الادا ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔

مجھے یقین ہے کہ میرے خلاف جنہوں نے ریفرنس تیار کیا ہے، انہوں نے اچھی طرح چھان بین کی ہوگی اور جب کچھ نہیں ملا تو اس طرح کے جھوٹے الزامات لے کر سامنے آئے ہیں۔ میرے معاملے میں تو میں نے ری فنڈ کے لئے جو درخواست کی تھی یعنی میں نے جو زائد از واجب ٹیکس جمع کروایا تھا، محکمہ انکم ٹیکس نے وہ بھی کبھی واپس نہیں کیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر ہونے سے پہلے میں ایک معروف قانونی فرم کا پارٹنر تھا جو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی تھی۔ اس لا فرم میں میرے پارٹنر کو پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے پر صدر پاکستان نے 2004 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا تو میری سالانہ تنخواہ اس سے پچھلے برس میں میرے ادا کردہ انکم ٹیکس سے کم تھی۔ جو لوگ سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، انہیں نشانہ بنایا جائے اور جن کا رہن سہن ان کے ٹیکس ریٹرن سے کوئی تناسب نہیں رکھتا، انہیں کھلا چھوڑ دیا جائے۔

اگر میرے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ میں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادیں کی تفصیل بیان کی ہے یا نہیں ، تو کیا یہ سوال وزیراعظم عمران خان سے بھی پوچھا گیا جب وہ میرے خلاف ریفرنس بھیجنے کی ایڈوائس دے رہے تھے کہ کیا انہوں نے آج تک اپنی بیویوں اور بچوں کی جائیدادیں اپنے اثاثوں میں ظاہر کی ہیں۔

جناب صدر! اگر وزیراعظم نے ایسا کیا ہے تو میری درخواست ہے کہ قابل احترام وزیراعظم کی فراہم کردہ دستاویزات کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان کو بنیاد بنا کر اپنا دفاع کر سکوں۔

حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ دستور کی شق 10 (الف) کے تحت منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ اگر حکومتی اراکین یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے دباؤ میں لاکر مجھے اپنے حلف کی خلاف ورزی پر مجبور کریں گے تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ اب بھی نہیں ہے۔

میں اپنے حلف کے مطابق کام کروں گا، بلا خوف و خطر اور اب بھی کسی سے ناانصافی نہیں کروں گا۔ اگر کسی کے دل میں ایسا کوئی خیال ہے تو اسے دل سے نکال دیں۔ میرے والد (قاضی محمد عیسیٰ) نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کی آزادی کے لیے لڑائی لڑی تھی۔ میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے نصب العین کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دوں گا۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ صرف میری ذات کا معاملہ نہیں، یہ بہت اوپر کا معاملہ ہے۔

جناب صدر! میرے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں جو ہتھکنڈے آزمائے گئے، اس سے بدتر صورت حال ممکن نہیں تھی اور اس کا مقصد صرف آزاد عدلیہ کو دباؤ میں لانا تھا۔

جناب صدر! آپ یقین رکھیں کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ میں اپنے حلف کے مطابق آئین کا دفاع کروں گا، دستور کا تحفظ کروں گا۔ اگر آزادی عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا گیا تو لوگوں کے، عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہوں گے۔ آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے کہ قانون اور آئین سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ لیکن اس سے زیادہ بڑی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جن کے پاس آئینی عہدے ہیں۔ اگر آئینی نظام کو بار بار روندا جائے گا تو جمہوریت آمریت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اور حکمرانی ایک تحکمانہ نظام کی صورت اختیار کر لے گی۔

جناب صدر! مجھے یقین ہے کہ آپ ہر وہ اقدام کریں گے جس اس امر کی ضمانت مل سکے کہ ہر شہری دستور کی پاسداری کرے گا۔ آخر میں میں آپ سے پھر درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اس ریفرنس کی کاپی عنایت کی جائے جو میرے خلاف دائر کیا گیا اور ابھی مجھے نہیں ملا۔


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے