پشتون رہنما جیل میں اور تحقیقات سست
پاکستان کے صوبہ خیبر پختوانخوا کے ضلع وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیے گئے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ کو بھی جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل پشاور منتقل کیا گیا تاہم ان کے خلاف تحقیقات اور شواہد اکٹھا کرنے میں تاحال کوئی واضح پیش رفت نہ ہو سکی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس سے قبل رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو بھی پشاور جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے تاحال علی وزیر اور محسن داوڑ کے خلاف چالان پیش نہیں کیااور عدالت سے ممبر قومی اسمبلی محسن داؤڑ کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست کی تاہم ڈیوٹی مجسٹریٹ انعام اللہ نے سی ٹی ڈی کی استدعا خارج کرتے ہوئے محسن داؤڑ کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل پشاور منتقل کیا۔
عدالت نے احکامات جاری کیے کہ پی ٹی ایم کے راہنما محسن داوڑ کو 19 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
محسن داؤڑ کی عدالت میں پیشی کے دوران عدالت اور اس کے احاطے میں انتہائی سخت سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینے صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیل بویا میران شاہ میں آرمی چیک پوسٹ پر مبینہ حملے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داؤڑ سمیت 350 دیگر نا معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

