قطر ’ٹھنڈی سڑکیں‘ کیسے بنائے گا
خلیجی ملک قطر نے گرمیوں سے تنگ آ کر سڑکوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اسفالٹ کے بجائے نیا مٹیریل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قطر میں پبلک ورکس کے ادارے نے کہا ہے کہ سڑکوں کا درجہ حرات سورج کی شعاعیں جذب کرنے کی وجہ سے بڑھتا ہے اور اس کا شہر کے مجموعی درجہ حرارت پر بھی اثر پڑتا ہے۔

محکمہ پبلک ورکس نے فیصلہ کیا ہے کہ ’ٹھنڈی سڑکیں‘ کے نام سے منصوبہ شروع کیا جائے جس کے لیے دوحا کی ایک سڑک کو ابتدائی طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

سیاحوں کے لیے مشہور مقام کو جانے والی اس سڑک کو ابتدائی طور پر نئے مواد سے تعمیر کیا جائے گا۔
الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر سڑک کی اسفالٹ تہہ پر ’کرجینک مٹیریل‘ استعال کر کے اس کی تپش کو کم کرے گا۔
بتایا جاتا ہے کہ اسفالٹ کی تہہ والی سڑک سورج سے آنے والی تپش کا 95 فیصد جذب کرتی ہے اور پھر اس کو فضا میں واپس خارج کرتی ہے۔

قطر کے محکمہ بجلی کے مطابق گھروں میں توانائی کا 70 فیصد خرچ صرف ایئرکنڈیشنڈ کے استعمال کی وجہ سے ہے جبکہ دیگر ضروریات پر صرف 30 فیصد بجلی خرچ کی جاتی ہے۔

قطر کے 30 سالہ ڈیٹا سائنسدان حسام المیر نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بہت زبردست چیز ہے کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے زندگی کو بہتر کرنے کی جانب توجہ رکھے ہوئے ہے۔‘

