مارچ کرتے کشمیریوں کا مذاکرات سے انکار
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خودمختار ریاست کی حامی جماعت جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کا کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے مارچ چناری کے مقام پر ہے جہاں سے آگے مقامی انتظامیہ نے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔
پیر کو چناری میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی اور مرکزی ترجمان رفیق ڈار نے سلیم ہارون و دیگر کے ہمراہ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کو سرینگر تک جانے کے لیے راستہ دیا جائے وگرنہ شاہراہ سرینگر پر ان کا دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔
پریس کانفرنس میں لبریشن فرنٹ کے قائدین نے کہا کہ وہ پاکستان اور انڈیا کی حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ صرف اقوام متحدہ اور اس کی سیکورٹی کونسل کے نمائندوں سے بات کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ صرف دو مطالبات ہیں ۔حکومت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے اور اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے پانچ ممالک کے ممبران کے نمائندوں کو یہاں بلائے۔ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ممبران ممالک کت نمائندوں کو ہم اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ جمعے کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے مارچ کے آغاز پر کہا تھا کہ وہ روکے جانے پر سڑک پر دھرنا دیں گے۔
خیال رہے کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کال دی ہے اور جمعے کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے سیاسی کارکن بھمبر، راولاکوٹ سے ہوتے ہوئے ریلی کی شکل میں پہلے مقامی دارالحکومت مظفرآباد پہنچےجہاں سے وہ کنٹرول لائن پر چکوٹھی چیک پوائنٹ کی جانب جانا چاہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کئی بار کشمیر کے شہریوں سے کنٹرول لائن کی طرف نہ جانے کی اپیل کر چکے ہیں۔

