ایرانی تیل بھاری اور گیس مہنگی، اپنے عوام کے فائدے میں کچھ کریں گے: پاکستانی وزیر
ایران پر امریکی پابندیوں کے 60 دن کے لیے خاتمے کا معاہدہ طے پاتے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے تہران سے سستا تیل خریدنے کے مطالبے شروع کر دیے ہیں-
یہی صورتحال اتوار کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی پریس کانفرنس میں بھی نظر آئی جہاں اُن سے ایسے سوالات کیے گئے تو ان کا جواب تھاکہ پاکستان خام تیل سمیت توانائی کے شعبے کی دوسری مصنوعات کے حصول کے لیے ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔
تاہم پاکستان کے پٹرولیم وزیر کا زیادہ زور ایران سے گیس خریدنے پر تھا-
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان ’ایران سے خام تیل سمیت توانائی کے شعبے میں جتنی بھی اشیا لے سکا وہ لے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ہمارے فائدے میں ہو۔ ایران ہمارا برادر، ہمسایہ ملک ہے اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں۔‘
ایران سے خام تیل خریدنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ایرانی تیل میں کچھ مسائل آتے ہیں، اور یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے، ’ایران کے پاس موجود خام تیل بھاری (ہیوی کروڈ آئل) ہے، لیکن ہم ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں کہ ہم کس طرح سے اِسے بلینڈ کر کے پاکستانی عوام کے لیے سستا ایندھن فراہم کر سکتے ہیں۔‘
پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی سالانہ کھپت تقریباً 70 لاکھ ٹن ہے۔
پاکستان میں ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان آئل کی رپورٹ برائے مالی سال 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے تقریباً 20 لاکھ کے قریب ڈیزل درآمد کیا اور 50 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ڈیزل مقامی ریفائنریوں میں خام تیل صاف کر کے پیدا کیا گیا۔
پاکستانی وزیر نے کہا کہ ’ایران خود بھی پیٹرول اور ڈیزل ترکمانستان اور دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے، کیونکہ اُن کے پاس اپنا خام تیل صاف کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ فی الوقت ’ہم یومیہ ایران سے تین سے چار ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کرتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ اسے بڑھایا جائے تاکہ ایل پی جی کی قلت کو کم کیا جا سکے۔‘
ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا یہ معاملہ اِس وقت پیرس کی ثالثی عدالت میں ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک پرانا منصوبہ ہے جس میں اس وقت ایک نمایاں پیش رفت ہوئی تھی جب سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آخری دنوں میں ا س وقت صدر آصف علی زرداری نے ایران کے دورے کے دوران اس کا افتتاح کیا تھا تاہم اس کے بعد اس میں کوئی خاص پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔
ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن بچھا دی ہے اور پاکستان نے 2014 میں اپنی جانب 780 کلو میٹر کی پائپ لائن بچھانی تھی، لیکن ایران پر امریکی پابندیوں اور فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان یہ کام نہیں کر سکا۔
اس پر ایران نے 2024 میں فرانس میں ثالثی عدالت سے رُجوع کیا تھا۔
اس حوالے سے پاکستانی وزیر نے کہا کہ ’یہ قطعی طور پر بھی مناسب نہیں کہ دو ملک جو آپس میں اتنی محبت اور بھائی چارے کا تعلق رکھتے ہوں، وہ ایسے معاملات کو عدالتوں میں طے کریں۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہ معاملہ عدالت کے باہر ہی حل ہو جائے اور ہم ایران کے ساتھ بیٹھ کر گیس کی قیمت طے کریں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر مقامی سطح پر ہمیں چھ ڈالر کی گیس مل رہی ہے اور باہر سے ہم 10 ڈالر کی منگوا رہے ہیں، تو اگر ایران سے ہمیں اس سے مہنگی گیس ملتی ہے تو ہم اپنے عوام پر یہ بوجھ نہیں ڈالیں گے۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر دونوں ممالک کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور اُمید ہے کہ اس کا بہتر حل نکلے گا۔

