پاکستان

اسمبلی میں (FIA)ٹیم کیوں آئی، نیا تنازع

جنوری 25, 2020

اسمبلی میں (FIA)ٹیم کیوں آئی، نیا تنازع


رپورٹ: عبدالجبار ناصر

پیپلزپارٹی کی خاتون سینیٹر روبینہ خالد کی شکایت پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ٹیم کو تحریک انصاف کی خاتون رکن سندھ اسمبلی ظہارہ دعا بھٹو سے تحقیقات کے لیے اسپیکر یا اسمبلی سیکریٹریٹ کی اجازت کے بغیر سندھ اسمبلی کی حدود میں بلانا یا ٹیم کا خود آنا مہنگا پڑگیا اورنیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے، اسمبلی قواعد کے انحراف پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کی شکایت پر تحریک انصاف کی خاتون رکن سندھ اسمبلی طاہرہ دعا بھٹو سے تفتیش کے لئے ایف آئی اے سائیبرکرائم کی ٹیم جمعرات کو تحقیقات کے لئے سندھ اسمبلی پہنچی اور خاتون رکن اسمبلی کا بیان قلمبند کیا ۔اب ایف آئی اے کی ٹیم کا یہ عمل نیا تنازع کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔

سندھ اسمبلی کے قوائد و ضوابط کار 2013ء کے رول14، 82، 83، 84 اور شیڈول چہارم کے مطابق کسی بھی ادارے کو اسمبلی کی حدود میں اسپیکر کی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی رکن کی گرفتاری یا گرفتاری کے نوٹس کا برائے راست اجراء تک کی اجازت نہیں ہے اور تفتیشی عمل تو نوٹس سے بھی آگے کا معاملہ ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اس عمل کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ تفتیشی ادارے کی ٹیم اسپیکر کی اجازت کے بغیر سندھ اسمبلی کی حدود میں تفتیش کے لئے کیوں اور کیسے آئی ؟ اگر طاہرہ دعا بھٹو اور حلیم عادل شیخ نے تفتیشی افسران کو بلایا ہے تو کس کی اجازت سے بلایا ؟ تفتیشی افسران کو سندھ اسمبلی بلانے والوں کے خلاف اسمبلی قوانین کے تحت سخت ایکشن لیا جائے گا اور ٹیم از خود آئی ہے تو اس کے خلاف بھی ایکشن ہوگا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کا کہنا ہے کہ جن ممبران نے ایف آئی اے میں بیان ریکارڈ کرائے اُن کو شوکاز جاری کرکے پوچھ گچھ کی جائے گی اور ایف آئی اے کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی جائے گی اسپیکر کا دعویٰ ہے کہ تفتیشی افسران کی اسمبلی آمد سے مجھے لاعلم رکھا گیا نہ اجازت لی گئی ہے۔ سندھ اسمبلی میں کسی ادارے کے افسران کسی رکن سے تفتیش کے لئے میری اجازت بغیر نہیں آ سکتے ہیں۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے آنا تو خط لکھ کر اجازت کیوں نہیں لی گئی ؟

سیکریٹری سندھ اسمبلی جی ایم عمر فاروق کا کہناہے کہ ایف آئی کی ٹیم نے ہم سے کوئی اجازت لی ہے اور نہ ہمیں آگاہ کیا گیاہے۔ ہم اس کی مکمل تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ ٹیم کس کی اجازت سے اسمبلی کی حدود میں تفتیش کے لئے آئی ہے۔

تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کے مطابق ایف آئی اے کے اہلکاروں کو اسمبلی عملے کو روکنا چاہیے تھا ،ہم نے ایف آئی اے اہلکاروں کے پاس نہیں بنوائے تھے ،ایف آئی اے کے اہلکار بطور مہمان اسمبلی آئے ،پیپلز پارٹی اسمبلی آنے والے تمام اداروں کی لسٹ جمع کرانے چاہیے۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے تحریک انصاف کی خاتون رکن سے اپوزیشن کے چیمبر میں تفتیش کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے