فارن فنڈنگ کیس سپریم کورٹ میں
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تحریک انصاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا.
رپورٹ: جہانزیب عباسی
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بنچ کے تحریر کردہ ایک فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں قواعد طے کیے جاچکے ہیں.
فارن فنڈنگ کیس میں ایڈووکیٹ انور منصور تحریک انصاف کے وکیل تھے جو اب اٹارنی جنرل ہیں.
سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست ایڈووکیٹ عمائیمہ انور خان نے تیار کی ہے، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اکبر ایس بابر کو فریق بنایا گیا ہے.
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر 4 دسمبر کو خلاف قانون آرڈر پاس کیا,حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے قوائد طئے کر دیئے تھے.
درخواست میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں الیکشن کمیشن کوئی کورٹ یا ٹریبونل نہیں,پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ سے متلعق کیس انکوئری کمیٹی کےپاس زیر التواہے,الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو جو احکامات جاری کئے ان کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا.
درخواست گزار کے مطابق اکبرایس بابر کو پی ٹی آئی سے نکالاگیا,شو کاز نوٹس جاری کئے گئے,الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ میں اکبر ایس بابر کی درخواستیں بدنیتی پر مبنی ہیں، ہائیکورٹ کا 4دسمبر کا فیصلہ خلاف قانون ہے, کالعدم قراردیا جائے، ہائیکورٹ کے ڈویزنل بنچ الیکشن کمیشن کے اختیارات سے تجاوز کو نظر انداز کیا.
درخواست گزار کا کہنا ہے مبہم فیصلہ جاری کیا گیا، ہائیکورٹ کے سنگل جج کا 18 جولائی 2018 کا چیمبر آرڈر بھی قانون کی نظر میں صحیح نہیں، الیکشن کمیشن کے پاس بیرون ملک فنڈنگ سے متعلق اکبر ایس بابر کی درخواست کی سماعت کا دائرہ اختیار نہیں، اکبر ایس بابر متاثرہ فریق نہیں، الیکشن کمیشن کا 12دسمبر کا حکم غیر قانونی ہے، الیکشن کمیشن آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے

