چینی وائرس کتے بلیاں کھانے سے پھیلا
چین میں تیزی سے پھیلتے خطرناک کورونا وائرس کی وجہ سے بڑے شہروں سے متاثرہ ووہان شہر کو جانے والی ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ سائنسدانوں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ بیماری چینی شہریوں کی کتے بلیاں کھانے کی عادت کی وجہ سے مزید پھیل سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور فرانس نے چین کے وائرس زدہ شہر سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے ہنگامی پرواز چلانے کا کہا ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے اعلی حکام کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ ملک کو انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے اور کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔
چین کے سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے نئے چینی سال کے حوالے سے منعقدہ خصوصی حکومتی اجلاس کے دوران کورورنا وائرس کے تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق اجلاس کا انعقاد نئے چینی سال کے موقع پر ہونے والی عام تعطیل کے دن کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 56 ہو گئی ہیں جبکہ 1400 سے زائد افراد اب تک اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ادھر سائنسدانوں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین کے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا کیونکہ وہاں کے شہری کتے، بلیاں، چمگادڑ اور چوہے کھاتے ہیں جن میں وائرس ہوتے ہیں۔
چین میں وائرس سے متاثرہ بہت سے شہروں میں سفری پابندیاں عائد ہیں جبکہ شیدونگ صوبے سے نجی گاڑیوں کو بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبائی جانے سے روک دیا گیا ہے۔
بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو شہر کے مرکزی اضلاع میں نقل و حرکت نہیں کرنے دی جائے گی کیونکہ یہ علاقہ اس وائرس کا مرکز ہے۔

