امریکی اپیل کورٹ کا ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ، لاکھوں تارکینِ وطن کو فوری ملک بدری کا سامنا
واشنگٹن: امریکی وفاقی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگریشن سے متعلق ان ہدایات پر دوبارہ عملدرآمد کی اجازت دے دی ہے جن کے تحت لاکھوں تارکینِ وطن کو تیز رفتار طریقہ کار کے ذریعے ملک بدری (Expedited Removal) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
منگل کو ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بینچ نے نچلی عدالت کا وہ حکم ختم کردیا جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کی مذکورہ ہدایات پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔
یہ پالیسی خاص طور پر ان تارکینِ وطن کو متاثر کرسکتی ہے جو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں انسانی بنیادوں پر Parole Program کے تحت امریکا آئے تھے، جن میں کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا کے شہری شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان افراد کو حاصل تحفظات ختم کرنے کے اقدامات شروع کیے تھے۔
اپیل کورٹ نے قرار دیا کہ پالیسی کو چیلنج کرنے والی امیگرنٹ رائٹس تنظیمیں یہ ثابت نہیں کرسکیں کہ انہیں اس معاملے میں قانونی طور پر مقدمہ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت کے مطابق 1997 سے موجود وفاقی ضابطہ پہلے ہی حکام کو بعض تارکینِ وطن کو تیز رفتار ملک بدری کے عمل میں شامل کرنے کا اختیار دیتا ہے، اس لیے موجودہ ہدایات ختم کرنے سے لازمی طور پر متاثرہ افراد کو ملک بدری سے تحفظ نہیں ملے گا۔
تین رکنی بینچ میں چیف جج سری سرینواسن اور ججز نیومی راؤ اور جسٹن واکر شامل تھے۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن اور ملک بدری کی پالیسی کے لیے ایک اور اہم عدالتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
مقدمہ Coalition for Humane Immigrant Rights v. Markwayne Mullin کے عنوان سے ڈی سی سرکٹ کورٹ میں زیر سماعت تھا۔

