پاکستان میں انٹیلی جنس محکموں کے بجٹ پر پارلیمانی نگرانی ضروری، امریکہ محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں سفارش
واشنگٹن: پاکستان میں مالی شفافیت سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے منظور شدہ بجٹ اور سال کے اختتام پر مالیاتی رپورٹ کو عوام کے لیے، بشمول آن لائن، بڑی حد تک قابلِ رسائی بنایا، تاہم ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل مناسب وقت کے اندر شائع نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے اپنے قرضوں کی مجموعی ذمہ داریوں، بالخصوص بڑے سرکاری اداروں کے قرضوں سے متعلق صرف محدود معلومات عوامی سطح پر فراہم کیں۔ تاہم دستیاب بجٹ دستاویزات میں حکومت کے بیشتر مجوزہ اخراجات اور آمدن، بشمول قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی، کی کافی حد تک مکمل تصویر پیش کی گئی۔
جائزے میں کہا گیا کہ پاکستان کے فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کے بجٹ مناسب پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے تابع نہیں تھے۔
رپورٹ نے اسے مالی شفافیت میں ایک اہم کمزوری قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ میں فراہم کردہ معلومات عمومی طور پر قابلِ اعتماد سمجھی گئیں اور سپریم آڈٹ ادارے کی جانب سے ان کا آڈٹ بھی کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سپریم آڈٹ ادارہ آزادی کے بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہے اور اس کی آڈٹ رپورٹس مناسب وقت میں عوام کے لیے دستیاب کی گئیں۔
قدرتی وسائل سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے کان کنی اور قدرتی وسائل کے ٹھیکوں اور لائسنسوں کے اجرا کے لیے قانونی معیار اور طریقہ کار متعین کر رکھا ہے اور بظاہر اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ بنیادی معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہونے کے ساتھ سرکاری خریداری کے معاہدوں سے متعلق معلومات بھی شائع کی جاتی ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کو مالی شفافیت بہتر بنانے کے لیے تین اہم اقدامات کی سفارش کی گئی ہے: ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل بروقت عوام کے سامنے لایا جائے، حکومتی اور سرکاری اداروں کے قرضوں کی تفصیلی معلومات جاری کی جائیں، اور فوج و انٹیلی جنس اداروں کے بجٹ کو پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے دائرے میں لایا جائے۔

