پاکستان

صدر نے ریفرنس بھیجنے سے قبل نہ پڑھا

جنوری 27, 2020

صدر نے ریفرنس بھیجنے سے قبل نہ پڑھا

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت میں تبدیلی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں بھی تبدیلی آچکی ہے جسٹس عمر عطا بندیال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ تبدیلی کو چھوڑیں۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس پر دائر درخواستوں کی سماعت میں دلائل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے صدر مملکت عارف علوی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ صدر مملکت نے جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بجھوانے سے قبل اُسے پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی، صدارتی ریفرنس میں اسسٹنٹ کمشنر کے لیے آنرایبل کا لفظ استعمال کیا گیا لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام کے ساتھ محترم / معزز کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف کیس میں سندھ بار کونسل کے وکیل ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے اٹھائے گئے ایک سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے سات فیصلوں کا حوالہ دیا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے گذشتہ سماعت پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر ایک جج کیخلاف جائیداد ظاہر نہ کرنے کے مصدقہ دستاویزات غیر قانونی راستہ اختیار کرکے حاصل کیے جائیں تو کیا وہ قابل قبول ہوں گے؟

اس سوال پر جواب دیتے ہوئے ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے سپریم کورٹ اورہائیکورٹ کے سات فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایسا مواد جس کے حصول میں قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے ہوں اُس مواد کی بنیاد پر جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت مس کنڈکٹ کی کارروائی نہیں ہوسکتی، کسی قانون کی غیر موجودگی میں اختیار کو خود سے اخذ نہیں کیا جاسکتا، ایسٹ ریکوری یونٹ کا قیام ہی غیر قانونی اُس کی طرف سے اکھٹا کردہ مواد کو اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہر شہری کیساتھ مساوی سلوک اور شفاف ٹرائل کا حق آئین پاکستان میں دیا گیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران آٹا بحران سے صدر مملکت کی لاعلمی کا بھی تذکرہ ہوا۔جسٹس فیصل عرب نیسوال پوچھا کیا ٹی وی اور اخبار کی خبر پر وزیر اعظم یا صدر کارروائی کر سکتے ہیں ۔ایڈووکیٹ رشید اے رضوی بولے ہمارے صدر صاحب تو اخبار ہی نہیں پڑھتے،صدر مملکت سے آٹابحران کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا مجھے معلوم ہی نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے دلائل میں مزید کہا کہ میں نے ایک مقدمے کے فیصلے کی مصدقہ کاپی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دی آج تک مصدقہ فیصلے کی کاپی نہیں ملی، جبکہ ایک مقدمے میں فیصلے کی نقل انٹرنیٹ پر آجاتی ہے، ہم سب انسان ہیں، سب سے غلطیاں ہوتی ہیں،اگر ہم نے آج اصول طے نہیں کیے، طریقہ کار وضع نہ کیا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

سماعت کے دوران تبدیلی کا بھی ذکر ہوا۔ ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے کہا اب تو سپریم جوڈیشل کونسل میں تبدیلی آچکی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کونسل کے رکن بن چکے ہیں، ہمیں توقع ہے اب بہتری آئے گی جو تین سال پہلے ہوتا رہا وہ اب نہیں ہوگا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا آپ تبدیلی کو چھوڑیں بہرحال آپ نے اہم نقطہ اٹھایا ہے۔

واضح رہے سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کو بطور جج اسلام آبا د ہائیکورٹ عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی تاہم شوکت عزیز صدیقی کی عہدے سے ہٹانے کے خلاف اپیل تاحال سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئی۔

ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے دلائل میں مزید کہا کہ صدر مملکت نے جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بجھوانے سے قبل اُسے پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی،سپریم کورٹ کے ایک جج کیخلاف صدر مملکت نے بغیر پڑھے جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا، ریفرنس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیس کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا۔

ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے مزید کہا صدارتی ریفرنس کے پیرا گراف نمبر 37 میں اسسٹنٹ کمشنر کے نام کیساتھ معزز/محترم کا لفظ لگایا گیا دوسری طرف سپریم کورٹ کے جج کا نام بارہ سے تیرہ مرتبہ لکھا گیا لیکن اُن کے (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) نام ساتھ معزز/محترم کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا،کیا صدر مملکت نے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی؟

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا ہم نے دوسر ی طرف (وفاق) کا موقف بھی جاننا ہے کہ صدر نے آزاد ذہن استعمال کرنا ہے یا ایڈوائیز پر عمل کرنے کے پابند ہیں ؟کیا وزیر اعظم کا کوئی کردار نہیں ؟ہمارے پاس درخواست گذار کی طرف سے اس حوالے سے دو موقف سامنے آئے،ہم اس مقدمے میں گائیڈ لائن کا تعین کریں گے،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیس میں بھی کافی چیزیں طے ہوچکی ہیں، ہمار ا مقدمے پر فوکس ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہم یہ بھی تلاش کریں گے اس مقدمے میں افتخار محمد چوہدری کیس فیصلے کے پیراگراف نمبر 64کو نظر انداز کیوں کیا گیا؟

ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے کہا کہ ہم بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے یہاں آئے ہیں۔ جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے