متفرق خبریں

اگلی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کروں گا

فروری 4, 2020

اگلی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کروں گا

ملائشیا کے دورے میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کی وجہ کچھ دوست ممالک کے تحفظات تھے۔

منگل کو پترا جایا میں وزیراعظم مہاتیر محمد سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ روایتی طور پر پاکستان اور ملائشیا ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ان کو گذشتہ سال کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر دکھ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ اگلے سال کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کریں گے کیونکہ اب (سعودی) دوستوں کا وہ خوف دور ہو گیا ہے کہ کانفرنس امت کی تقسیم کا باعث بن سکتی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی تین بار وضاحت کی۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’ہمارے دوستوں کو ایسا لگتا تھا کہ کوالالمپور کانفرنس امت کی تقسیم کا باعث بنے گی جو کہ غلط تھا اور ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ کانفرنس امت میں اتحاد کی وجہ بنی۔‘

ملائشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر گفتگو ہوئی اور دونوں ملکوں میں ہر سطح پر وفود کے تبادلے اور تعلقات بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں میں شراکت داری، تعاون اور عوامی سطح پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

عمران خان نے کشمیر پر ملائشیا کی سپورٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب گذشتہ برس دسمبر میں کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے تو کتنے دکھی تھے۔

”بدقسمتی ہے ہمارے دوست جو پاکستان کے بہت قریب ہیں ان کو لگا کہ یہ کانفرنس امت کو تقسیم کرے گی اور یہ واضح طور پر درست تاثر نہ تھا کیونکہ یہ اس کانفرنس کا مقصد نہیں تھا۔“

ملائشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کوالالمپور کانفرنس کے نتائج بھی عمران خان کو بتائے۔ 

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں تجارتی شعبے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے رکاوٹیں دور کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سکیورٹی، ایجوکیشن، ٹورازم اور دفاعی شعبے میں تعاون کے علاوہ مسلم امہ کے مسائل، فلسطین اور میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

ایک صحافی نے پاکستانی وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا وہ اگلے سال کوالالمپور کانفرنس میں آئیں گے اور کیا ان کو دوست ملک دوبارہ تو نہیں روکیں گے؟

جواب میں عمران خان نے کہا کہ اب ان کو کانفرنس میں شرکت کرکے خوشی ہوگی کیونکہ واضح ہو گیا ہے کہ اس کانفرنس نے امت مسلمہ کو تقسیم نہیں کیا بلکہ اس کے اتحاد کا باعث بنی۔

’ہمارے کچھ دوستوں کی جانب سے اب وہ خوف نہیں رہا۔ اس لیے وہ اگلی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ ”باہمی تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں میں ملزمان کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔“

عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے بارے میں غلط تاثر کو ختم کرنے کے لیے وہ ملائشیا کے ساتھ مل کر میڈیا کا ادارہ بنانے پر کام کر رہے ہیں، اور کوالالمپور کانفرنس کا مقصد بھی یہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ یہ بات دہراتے ہیں کہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا دکھ ہے اور اس کی بڑی وجہ وہی تھی کہ ہمارے کچھ دوست کسی وجہ سے سمجھتے تھے کہ یہ کانفرنس امت میں تقسیم کا باعث بنے گی۔

خان نے کہا کہ وہ ملائشین کمپنیوں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دے رہے ہیں اور پاکستان ملائشیا سے پام آئل خریدے گا کیونکہ انڈیا نے کشمیر پر حمایت کے بعد ملائشیا سے پام آئل کی خریداری بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے