پشاور: جنسی زیادتی کے خلاف احتجاج
عظمت گل ۔ صحافی / پشاور
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف شہری سڑکوں پر نکلے ہیں اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا ہے۔
احتجاج میں نوشہرہ میں جنسی زیادتی کےبعد قتل کی جانے والی بچی کے لواحقین بھی شامل تھے۔
مظاہرین نے معصوم حوض نور کے قاتلوں کےخلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ زینب الرٹ بل کی طرح پختونخوا میں بھی قانون سازی کی جائے اور حوض نور بل کے قاتلوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔
مظاہرین حوض نور کو انصاف دو، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دو، کے نعرے لگا رہے تھے۔
اس موقع پر مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ حکومت اور قانون نافظ کرنے والے ادارے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
مقررین نے کہا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف آگاہی مہم چلائی جائے۔ صوبے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل میں اضافہ حکومتی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اس عمل کی روک تھام کے لئے تعلیمی اداروں اور مدرسوں میں کیمرے نصب کیے جائیں۔
مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ سرعام پھانسی کی مخالفت کرنے والے وزراء کو ان کے درد اور کرب کا اندازہ نہیں، بیٹی کے قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ آئندہ کسی کی بیٹی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

