’چین میں پاکستانی مرا تو ذمہ دار کون؟‘
پاکستان میں اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا ہے کہ چین میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد پھنسے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر اس دوران کسی پاکستانی کی موت ہوگئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔؟
منگل کو چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہیے جس کے تحت چین سے پاکستانی طلبہ اور شہریوں کو واپس نہیں لایا جا رہا۔
عدالت نے حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئی حکم جاری نہیں کر رہے لیکن اس حوالے سے حکومت ایک بار نظرثانی کر لے۔‘
عدالت میں وزارت خارجہ اور وزارت صحت کے نمائندے پیش ہوئے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے کورونا وائرس کے بعد کیے جانے والے اقدامات کی رپورٹ پیش کی گئی۔
حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ چین کی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کی دیکھ بھال سے مطمئن ہے۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش نے بھی اپنے شہریوں کو چین سے نکالنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

