چیف جسٹس کا دو وزیروں سے مکالمہ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پانچ سال کی بجائے دو سال میں ایم ایل ون ریلوے منصوبہ مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دیدی۔عدالتی حکم میں قرار دیا گیا اگر منصوبہ دو سال کی مدت میں مکمل نہ ہوا تو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔واضح رہے وفاقی وزیر برائے ریلویز شیخ رشید نے سپریم کورٹ کو پانچ سال میں ایم ایل ون منصوبہ مکمل کرنے کی بات کی تھی۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ نے حکمنامے میں مزید کہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی پانچ کلو میٹر زمین قابضین سے ایک ماہ میں خالی کرائی جائے،کراچی سرکلر ریلوے کی زمین قابضین سے چھڑا کر تین ماہ میں انفراسٹرکچر قائم کرکے فعال کیا جائے، قابضین سے زمین خالی کروانے کیلئے رینجرز اور پولیس کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا وفاقی وزیر شیخ رشید احمد سے مکالمہ بھی ہوا۔
عدالت نے جب حکمنامہ لکھوایا کہ ایک ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے کی زمین قابضین سے چھڑا کر انفراسٹرکچر بنایا جائے تو اس پر شیخ رشید احمد بولے کہ سر اتنا بڑا انفراسٹرکچر ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو نہ ہونے والی بات ہے، ایسے تو سب کچھ کباڑ بن جائے گا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا انفراسٹرکچر سندھ حکومت نے بنانا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا سندھ حکومت تو ڈلیور ہی نہیں کر رہی،آپ بات سمجھنے کی کوشش کریں، آپ ریکور کرکے ریلوے کو چلائیں۔
وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا پھر ریلوے سندھ کو جو فنڈز ملے وہ ہمارے حوالے کیے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا یہ وفاقی معاملہ ہے،ایسا کوئی کام نہ کریں جو غیر آئینی ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا غیر آئینی کام نہیں کریں گے۔
سپریم کورٹ نے جب تین ماہ میں کراچی سرکلرریلوے کو فعال کرنے کا حکمنامہ لکھوایا تو وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا یہ غیر حقیقی ہے، عدالتی ڈیڈ لائن عملی طو پر ممکن نہیں، میں عدالت سے گزارش کرنا چاہتا ہوں۔اس پر چیف جسٹس بولے باتیں کرنے کا وقت گزر چکا، اب کچھ کرنے (ڈلیور)کا وقت ہے، اگر ایسی بات ہے تو پھر ہم ریلوے کو بند کردیتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا چائینہ نے تو دس دنوں میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بنا لیا۔وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ایم ایل ون بھی چائینز کمپنی نے بنانا ہے۔چیف جسٹس بولے چائینز کمپنی تو دو ماہ میں مکمل کر لے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا میں چائینہ سمیت دیگر ممالک کے ریلوے منصوبوں کی تکمیل پر مشتمل تفصیل سپریم کورٹ میں پیش کروں گا۔
چیف جسٹس بولے کیا آپ چاہتے ہیں آپ کا محکمہ سوتا رہے اور کام بھی ہوتا رہے۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا ہم راتوں کو دیر تک کام کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ہم بھی رات ایک بجے تک کام کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے وزیر ریلویز شیخ رشید احمد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا حادثاتی طور پر سیکرٹری ریلوے صاحب کو کچھ نہیں پتہ۔وزیر ریلوے نے کہا سیکرٹری ریلوے نئے آئے ہیں۔چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا سیکرٹری ریلویز سے زیادہ تو ہم جانتے ہیں۔
سپریم نے تیز گام حادثے کے مقدمہ اندراج کی درخواست خارج کردی۔درخواست گذار کا کہنا تھا تیز گام حادثے کا نہ مقدمہ درج ہوا نہ ہی تمام لواحقین کو معاوضہ ملا۔چیف جسٹس بولے ہم گمنام لوگوں کو کیسے معاوضہ دلوا سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے عدالتی حکم میں کہا اسی نوعیت کا ایک مقدمہ سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں اکیس فروری کو سماعت کیلئے مقرر ہے،اس مقدمے میں سیکرٹری ریلوے اور چیف سیکرٹری سندھ ذاتی حیثیت سے پیش ہوں۔

