پاکستان پاکستان24

پاکستان: سوشل میڈیا پر خفیہ کنٹرول؟

فروری 12, 2020

پاکستان: سوشل میڈیا پر خفیہ کنٹرول؟

پاکستان میں وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے رولز یا قواعد بنا لیے ہیں اور وفاقی کابینہ نے نئے سوشل میڈیا رولز کی منظوری بھی دے دی ہے۔ نئے قواعد کے تحت خفیہ اداروں کو سوشل میڈیا صارفین کے خلاف شکایت کرانے کے لامحدود اختیارات دیے گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے قواعد میں ترمیم کی ہے جن کو پارلیمان سے منظور کرانے کی ضرورت نہیں۔ رولز کے تحت تمام بین الاقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تین ماہ میں پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی۔

نئے سوشل میڈیا رولز کے مطابق یو ٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، ٹک ٹاک، ڈیلی موشن سمیت تمام کمپنیاں تین ماہ میں رجسٹریشن کرانے کی پابند ہوں گی۔


تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو تین ماہ میں اسلام آباد میں دفتر قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

نئے رولز کے تحت تمام عالمی سوشل پلیٹ فارمز اور کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال میں پاکستان میں ڈیٹا سرور بنانا ہوں گے۔

نئے قواعد کے مطابق قومی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ بیرون ملک سے ان اداروں کو آن لائن نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ہو گا۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کوآرڈینیشن اتھارٹی بنائی جائے گی۔ اتھارٹی حراسگی، اداروں کو نشانہ بنانے، ممنوعہ مواد کی شکایت پر اکاونٹ بند کر سکے گی۔

اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن لے گی۔ اگر کمپنیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کی سروسز معطل کر دی جائیں گی۔ نئے رولز کے مطابق اگر کمپنیوں نے رولز کو فالو نہ کیا تو پچاس کروڑ تک جرمانہ ہوگا۔

یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر بنائے جانے والے مقامی پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دے دیا گیا۔ رولز کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا جن پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

نئے قواعد کے تحت قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ادارے قابل اعتراض مواد پر کارروائی کر سکیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے