نیب اپنی تفتیش کو بہتر کرے: سپریم کورٹ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے نیب کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب بیورو پچاس پچاس گواہ اکھٹے کرنے کی بجائے معیاری تفتیش پر توجہ دے، من پسند ججوں کی تعیناتی کی خواہش مقدمات کی تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں کوئٹہ، لاہور اور اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں ججز تعینات کرنے کا حکم دیدیا. عدالتی حکم میں کہا گیا کراچی کی دو احتساب عدالتوں میں ججز کی آسامیاں خالی ہیں،15 دنوں میں کراچی کی دو احتساب عدالتوں میں ججز تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ مشاورتی عمل مکمل نہ ہونے کے سبب کراچی کی دو احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی نہیں ہورہی،ججز کی تعیناتی نہ ہونے کے سبب طویل عرصے تک معاملے کو لٹکا نہیں سکتے،مقدمات کا سامنا کرنے والے ملزمان کو ججز کی تعیناتی نہ ہونے کے سبب انتظار نہیں کرنے دیں گے،پشاور کی دو احتساب عدالتوں کے ججز چھ جون کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے،پشاور کی دو احتساب عدالتوں میں ججز کی ریٹائرمنٹ سے قبل نئے ججز کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نیب کے تفتیشی افسران مقدمات میں دلچسپی نہیں لیتے،نیب ایک مقدمے میں پچاس، پچاس گواہ بنا لیتا ہے،گواہان اور شواہد کی تعداد میں اضافہ کی بجائے معیاری شواہد اور گواہان ہونے چاہیں،نیب گواہان کی تعداد کی بجائے معیار پر توجہ دے.
چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا مقدمے میں ایک تضاد آگیا تو پورا مقدمہ ختم ہو جاتا ہے. جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا احتساب عدالتوں میں نیب ایسے مقدمات بھی چلا رہا ہے جو اسکے دائرہ اختیار میں نہیں،کمپنیوں کے مقدمات بھی احتساب عدالتوں میں چل رہے ہیں.
چیف جسٹس بولے نیب تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کو کچھ پتہ نہیں ہوتا.
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ سے دلچسپ مکالمہ بھی ہوا. چیف جسٹس نے کہا کھوسہ صاحب آپ کے آنے سے ہمیں خوشی ہوتی ہے،کھوسہ صاحب آپ تو کہیں اور پیش ہوتے رہتے ہیں،آپ اس معاملے کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کریں، آپ کو ثواب ہوگا.
چیف جسٹس نے مزید کہا اپنے لوگوں کو جج لگانے کیلئے تاخیر ہورہی ہے.
کیس کی سماعت کے دوران نیب کی طرف سے رپورٹ پیش کی گئی.
نیب کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پانچ احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی ہونی ہیں.
چیف جسٹس نے کہا احتساب عدالت کے ججز کی تعیناتی کا عمل معیاد کے اختتام سے چھ ماہ پہلے کیوں شروع نہیں کیا جاتا،جو لوگ جیلوں میں ہیں، انکا کیا قصور ہے.
نیب وکیل نے کہا ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں 12 سو 26 ریفرنس زیر التوا ہیں. اس پر چیف جسٹس بولے 12 سو 26 مقدمات تو چھ ماہ کی مار ہیں،نیب میں زیر التوا مقدمات تو چھ ماہ میں سن کر نمٹائے جاسکتے ہیں،ہم سپریم کورٹ میں روزانہ پچاس مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں.
نیب کے وکیل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا چیئرمین نیب خود نیب مقدمات کی نگرانی کررہے ہیں. چیف جسٹس بولے نیب تفتیشی افسران درست انداز سے مقدمات نہیں چلاتے. اس پر نیب کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا میں نیب تفتیشی افسران کا دفاع نہیں کررہا ہے، عدالت کی تشویش درست ہے،ہم ایف آئی اے اور پولیس سے بھی مدد لے رہے ہیں.
چیف جسٹس نے کہا نیب کے افسران کا تفتیش کے حوالے سے کیا تجربہ ہے. نیب وکیل نے جواب دیانیب کے تفتیشی افسران کو برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے تربیت دی گئی.
عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی.

