پاکستان24 متفرق خبریں

’فوج ساتھ ہے اور فضل الرحمان غدار‘

فروری 14, 2020

’فوج ساتھ ہے اور فضل الرحمان غدار‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور مولانا فضل الرحمن کے بیان پر غداری کا آرٹیکل چھ لگنا چاہیے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا جوکرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے۔ ”میں پرچی والا پارٹی سربراہ نہیں۔ فوج میرے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ میں کرپٹ ہوں نہ پیسے بنارہا ہوں۔ ایجنسیوں کو سب پتہ ہوتا ہے کون کیا کر رہا ہے۔ حکومت کہیں نہیں جا رہی آٹا بحران سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اورخسرو بختیار کا نام نہیں۔“

ملاقات کرنے والے صحافیوں کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ملکی سیاست، اپوزیشن اور معیشت سے متعلق کھل کرباتیں کیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمن نے کہا کہ وہ کسی کے اشارے پر حکومت گرانے آئے تھے، یہ غداری ہے۔ اس بیان پرآرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن کےخلاف کارروائی کریں گے۔

وزیراعظم نے حکومت اورفوج میں تنائو کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی۔ اپوزیشن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔

”حکومت گرانے کی باتیں اس لیے ہورہی ہیں کہ اپوزیشن کی سیاسی دکانیں بند ہونے جارہی ہیں۔ کوئی کرپشن کرتا ہے تو فوج اورآئی ایس آئی کو پتہ چل جاتا ہے۔“

خان نے کہا وہ 22 سال جدوجہد کرکے اس مقام پر پہنچے۔ ان سے زیادہ لڑنا کوئی نہیں جانتا۔

آٹے، گندم اورچینی کے بحران پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔

”ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں۔۔۔۔ملک میں ہرجگہ کارٹل ہے۔ مسابقتی کمیشن اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔ مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی فیصلہ کرلیا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسوں کا استعمال روکنے کیلئے شو آف ہینڈ کا قانون لارہے ہیں۔

انتخابی قوانین نظام کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ”بائیومیٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لارہے ہیں۔ اگر کسی حلقے میں دھاندلی ہوئی تو تحقیقات کیلئے تیارہیں۔ اپوزیشن تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتی۔“

انہوں نے اپوزیشن سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ منتخب ہوکر آئے تو اپوزیشن نے خطاب نہیں کرنے دیا۔انہوں نے کیا بگاڑا تھا۔

ملکی معیشت کا ذکرکرتے ہوئے وزیراعظم کاکہناتھا کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ ڈیفالٹ کرجاتے تو ڈالر 225 روپے کا ہوجاتا۔ آصف علی زرداری اور نوازشریف کے دور میں ایکسپورٹ کم اور امپورٹ زیادہ ہوئی۔


وزیراعظم نے اپنی تنخواہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو تنخواہ ہے وہ اسی پرگزارہ کررہے ہیں۔ دنیا میں کسی بھی وزیراعظم سے سب سے کم ان کی تنخواہ ہوگی۔ میڈیا ان کی ذات پراٹیک کرے مسئلہ نہیں، میڈیا جب ملک پراٹیک کرتا ہے تو مسئلے ہوتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے