امریکہ طالبان معاہدہ کا مختصر متن – اردو ترجمہ
ترجمہ: احسان حقانی ۔ صحافی / اسلام آباد
فی الحال آپ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کے تمام نکات اختصار کے ساتھ پڑھ لیں۔ تبصرہ، تنقید اور باقی تفصیلات بعد میں۔
عنوان:
امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، کے درمیان افغانستان میں امن لانے کا معاہدہ
29 فروری 2020 بمطابق ۵ رجب ۱۴۴۱
اس جامع امن معاہدہ کے چار پہلو ہیں۔
نمبر۱: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف افغانستان کی سرزمین کسی بھی فرد یا گروپ کی طرف سے استعمال نہ ہونے کی ضمانت
نمبر۲: افغانستان سے تمام غیرملکی افواج کے انخلا، طریق کار اور نظام الاوقات کی ضمانت
نمبر۳: 10 مارچ 2020 تک غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق تفصیلات طے ہونے کے بعد، امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، بین الافغان مذاکراتی عمل شروع کرے گا۔
نمبر۴: بین الافغان مذاکرات میں مستقل جنگ بندی اولین موضوع ہوگا۔
یہ تمام چار نکات باہم ایک دوسرے پر منحصر ہیں، جن پر باہمی رضامندی سے طے پانے والے نظام الاوقات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ پہلے دو نکات پر عمل سے باقی دو نکات پر عمل کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

ذیل میں اس معاہدے کی وہ تفصیل ہے جو پہلے اور دوسرے حصے کے نفاذ سے متعلق ہے۔ امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، کا فرض ہوگا کہ وہ معاہدہ کے متعلقہ نکات پر اپنے زیر تسلط علاقوں میں اس وقت تک عمل درآمد یقینی بنائے جب تک کہ بین الافغان تصفیہ کے نتیجے میں اسلامی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی۔
حصہ اول
اس معاہدہ کے 14 ماہ کے اندر اندر امریکہ افغانستان میں اپنی فوجی اور غیرفوجی موجودگی مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کرے گا:
۱۔ امریکہ ماہدے کے بعد پہلے 135 دنوں میں اپنی افواج کی تعداد کم کرکے آٹھ ہزار چھ سو تک لائے گا۔
۲۔امریکہ اور اتحادی تمام پانچ فوجی اڈے خالی کریں گے۔
۳۔ امریکہ 28 اگست 2020 تک امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، کے ارکان کے نام مطلوب افراد کی فہرست سے نکال دے گا۔
۴۔ امریکہ افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت،طاقت کے استعمال اور طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے سے گریز کرے گا۔
حصہ دوم
معاہدہ کے اعلان کے بعد، امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ریاست تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف القاعدہ سمیت کسی بھی خطرہ سے نمٹنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کرے گا۔
۱۔ امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، القاعدہ سمیت کسی گروپ کو امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کا موقع نہیں دے گا۔
۲۔ امارت اسلامی، جس کو امریکہ نہیں مانتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، امریکہ کے لئے خطرہ بننے والے تمام افراد اور گروہوں کو واضح پیغام دے گا کہ ان کے لئے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور اپنے ارکان کو پیغام دے گا کہ ایسے لوگوں سے کسی قسم کا تعاون نہ کریں۔
۳۔امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، کسی بھی گروپ یا فرد کو امریکہ کے لئے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔
۴۔امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، افغانستان میں پناہ کے خواہش مندوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاملہ کرے گا تاکہ کوئی ایسا فرد افغانستان میں رہائش اختیار نہ کرسکے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہو۔
۵۔ امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، کسی بھی ایسے شخص کو ویزہ، پاسپورٹ، دیگر سفری سہولیات فراہم نہیں کرے گا جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہو۔
حصہ سوم
۱۔ امریکہ اقوام متحدہ سے گزارش کرے گا کہ اس معاہدہ کو تسلیم کیا جائے۔
۲۔ مریکہ اور امارت اسلامی افغانستان، جس کو امریکہ ریاست تسلیم نہیں کرتا اور دنیا اسے طالبان کے نام سے جانتی ہے، ایک دوسرے کے ساتھ مثبت تعلقات کی توقع کرتے ہیں۔ امید ہے کہ امریکہ اور بین الافغان مذاکرت کے نتیجے میں بننے والی اسلامی حکومت کے مابین بھی تعلقات مثبت ہوں گے۔
بین الافغان مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان کی تعمیر نو کے لئے اخراجات کا جو تخمینہ سامنے آئے گا، امریکہ اس کے لئے مالی تعاؤن کا راستہ تلاش کرے گا۔

