متفرق خبریں

پی آئی اے چیئرمین کیس: ایرا چیئرمین کو بلانے کی استدعا مسترد

مارچ 3, 2020

پی آئی اے چیئرمین کیس: ایرا چیئرمین کو بلانے کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ نے سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد محمود کی تعیناتی کیخلاف کیس میں ایرا کے افسران کی فریق بننے کی درخواست مسترد کر دی۔

چیف جسٹس نے ایرا کے ملازم سے مکالمے میں کہا کہ ان کی درخواستوں کا پی آئی اے کے کیس سے کوئی تعلق نہیں، خواہ مخواہ بیچ میں گھسے جارہے ہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے چیئرمین پی آئی اے ایئر مارشل ارشد محمود کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت کی.

کیس کی سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پیش ہو کر کہا اٹارنی جنرل خالد جاوید بیرون ملک ہیں، انھوں نے مقدمہ ملتوی کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل اس مقدمے میں سپریم کورٹ کی خود معاونت کرنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے میں ایرا کی جانب سے بھی ایک درخواست دائر کی گئی ہے، ارشد محمود، رانا ساجد محمود اور نعیم الطاف شاہ نامی تین افسران نے درخواستیں دائر کیں۔

درخواست گزار ارشد محمود نے روسٹرم پر آکر بتایا میں 14 سال سے ایرا میں کنٹریکٹ پر نوکری کررہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو کس نے کہا تھا کنٹریکٹ پر ملازمت کریں؟

درخواست گزار ساجد محمود بولےایرا کے چیئرمین کے پاس بھی چار عہدے ہیں، ہمیں بھی فریق بنایا جائے۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کی درخواستوں کا پی آئی اے کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، خواہ مخواہ بیچ میں گھسے جارہے ہیں.

عدالت عظمیٰ نے فریق بننے کی ایرا کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا ہم نے گزشتہ سماعت پر ایئر مارشل ارشد محمود سے پی آئی اے یا ایئر فورس میں سے کسی ایک کے انتخاب کا پوچھا تھا. ایئر مارشل ارشد محمود کے وکیل نے جواب دیا تین صفحات پر مشتمل تحریری جواب آچکا ہے،میں اس حوالے سے آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کروں گا.

عدالت نے اٹارنی جنرل کی التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے