پارلیمنٹ میں آٹا چینی چور کے نعرے
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ میں آٹے اور چینی کے بحران پر بحث کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی ہے اور اپوزیشن نے حکومتی اراکین کے خلاف چور چور کے نعرے لگائے ہیں۔
سینیٹ میں آٹے کے بحران پر کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے اپنے حصے کی گندم نہیں خریدی جبکہ پنجاب کی فصل میں دو ملین ٹن کی کمی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے چھ سے سات ملین ٹن گندم پولٹری انڈسٹری کو دے دی جس سے قلت پیدا ہوئی۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے غریبوں کا مسئلہ فوڈ ہی ہے۔
سینیٹر مشاہد اللہ خان نے حکومتی سینیٹر شبلی فراز کو بھائی قرار دیا اور کہا کہ یہ اندر سے ہمارے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”شبلی فراز چور نہیں لیکن چوروں کی پارٹی میں ہے۔“
سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ شبلی فراز نے کہتے ہیں کہ پرانے چوروں کو پکڑو، آپ نے سارے پکڑے ہیں ایک روپے کی کرپشن ثابت نہ ہوئی۔“
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آپ کا لیڈر عمران خان نواز شریف کے پاس جدے، لندن اور جاتی عمرہ مانگنے جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پانچ دس فیصد شوکت خانم میں جمع کراتے باقی اپنی جیب میں ڈالتا۔ عمران خان چوروں کا وزیراعظم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مال بنانا کم کرو، غریبوں پر رحم کرو۔ ساری دنیا کو پتہ چل گیا کون آٹا اور چینی چور ہے۔ کس نے ادویات کی قیمتوں میں چار سو فیصد اضافہ کیا۔ کس نے شوگر ملیں لگائیں۔‘
مشاہد اللہ خان کی تقریر کے دوران حکومتی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ چور بھاگ کر چلے گئے جس مشاہد اللہ نے کہا کہ ہم نے کل آپ کی بکواس سنی۔
حکومتی اراکین کی جانب سے مشاہد اللہ کی تقریر کے دوران نعرے بازی شروع کی گئی جس پر انہوں نے چیئرمین سے کہا کہ ان کا منہ بند کرائیں۔
اس دوران اپوزیشن ارکان نے آٹا چینی چور چور کے نعرے لگائے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اگر حکومتی بینچ سے اشارے کیے جائیں گے تو ایوان نہیں چلے گا اور ماحول خراب ہوگا۔ ’آپ لاکھ چھپائیں۔ عوام سے چور نہیں چھپ سکتا۔‘
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ حکومت آٹا اور چینی چور ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بکواس کا لفظ واپس لیتے ہیں مگر کسی سے معافی نہیں مانگیں گے۔ بزرگ سینیٹر نے فیصل جاوید کو لاروا قرار دیا اور کہا کہ ’یہ لاروا ہے، ابھی کیڑا نہیں بنا ہے میں اس سے معافی مانگوں۔ یہ سارے اب ہم سے معافی مانگیں گے۔‘
لیگی سینیٹر نے کہا کہ دواؤں کے ریٹ انہوں نے بڑھائے۔ ’یہ میرا مائیک بند کروائے گا لاروا۔ یہ چیئرمین لگا ہوا ہے لاروا میرا مائیک بند کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ چینی چور ہیں۔ پھر فیصل جاوید کو پنجابی میں مخاطب کر کے کہا کہ چل اوئے بے جا آرام نال۔
تمام حکومتی ارکان نشستوں سے اٹھ کر ایوان میں جمع ہوئے اور مشاہد اللہ خان کے خلاف نعرے بازی کی۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ’یہ مجھے جانتے نہیں، میری ہسٹری نہیں جانتے۔ یہاں کسی کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا۔‘

