پاکستان

اسلام آباد کے نالوں میں کشتیاں چلنی چاہئیں

مارچ 5, 2020

اسلام آباد کے نالوں میں کشتیاں چلنی چاہئیں

پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے نالوں میں تو کشتیاں چلنی چاہئیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں آلودگی اور بلدیاتی مسائل کے مقدمے میں عدالت نے بلدیاتی اختیارات کی عوامی نمائندوں کو منتقلی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ پیش ہو کر بتائیں آرٹیکل 140 اے پر عمل درآمد کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ 

عدالت میں اسلام آباد کے میئر انصر عزیز اور وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے چیئرمین احمد عامر علی نے بلدیاتی مسائل کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی۔

شہر کے میئر نے عدالت کو بتایا کہ مشینری خراب اور فنڈز موجود نہیں ہیں جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ’ہر کام کے لیے فنڈز کا رونا ڈالنا درست نہیں۔ ایم سی آئی کے نالے صاف کرنے کے لیے عملہ موجود ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے شہر کے نالوں کی چوڑائی اور گہرائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں تو کشتیاں چلنی چاہئیں۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ سی ڈی اے کے چیئرمین اور میئر نے اسلام آباد کو آلودگی سے پاک کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ’اب یقینی بنایا جائے انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف قوانین پر عمل ہوگا۔‘

عدالت نے سی ڈی اے ملازمین کے تبادلوں سے متعلق ٹریبونل ( این آئی آر سی ) کو دو ہفتے میں فیصلے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل کے چیئرمین دو ہفتے بعد عدالت کو رپورٹ پیش کریں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر سٹون کرشنگ روکنے کا بھی حکم دیا۔ 

عدالت نے ہدایت کی کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں فوری طور پر کرشنگ روکنے کے لیے اقدامات کریں اور جہاں کرشنگ ہوئی وہاں پر شجرکاری یقینی بنائی جائے۔

قبل ازیں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں۔ سی ڈی اے میں کلرک چیئرمین سے زیادہ طاقتور ہیں۔

 چیئرمین عامر احمد علی نے عدالت کو بتایا کہ ’ملازمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جن کا تبادلہ کرتا ہوں وہ حکم امتناع لے آتے ہیں۔ این آئی آر سی کا تبادلے رکوانے میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ کرپٹ مافیا کو معطلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کرپٹ ملازمین اور افسران کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا رہا ہوں۔‘

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اسلام آباد شہر کو اتنا پھیلایا کیوں جا رہا ہے؟ کیا پورے اسلام آباد کو صنعتی زون بنانا چاہتے ہیں؟ کیا ماسٹر پلان میں صنعتی زون تھا؟

چیئرمین نے بتایا کہ شہر کے سیکٹرز آئی نائن اور آئی ٹین کے صنعتی زون ماسٹر پلان میں شامل ہیں اور سٹیل کی 12 صنعتوں میں سے چھ چل رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا جو صنعتیں شہر آلودہ کریں ان کو بند کر دیں۔ ’سی ڈی اے کے اقدامات کا رزلٹ نظر آنا چاہیے۔ سی ڈی اے رپورٹس میں اچھی انگریزی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ چاہتے ہیں معیشت خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔‘

چیف جسٹس نے اسلام آباد کے میئر سے پوچھا کہ شہریوں کو اچھی پبلک ٹرانسپورٹ کیوں نہیں دی جا رہی؟ کچھ نہیں کرنا تو کم از کم رکشے ہی چلا دیں تاکہ خواتین محفوظ سفر کر سکیں۔ سڑکوں سے نکل کر اب سکائی اور انڈر گراؤنڈ ٹرین کی طرف آئیں۔‘

میئر نے بتایا کہ سارا مسئلہ فنڈز کا ہے۔ چیف جسٹس نے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد کے میئر سے کہا کہ ساڑھے تین سال ان کی پارٹی کی حکومت رہی تب انہوں نے کیا کیا؟

میئر انصر عزیز نے چیف جسٹس سے کہا کہ ان کو اختیارات دیے جائیں تو تین ماہ میں شہر ٹھیک نہ کر سکے تو الٹا لٹکا دیں۔ چیف جسٹس نے جواب میں کہا کہ میئر صاحب آپ بہت بڑا چیلنج دے رہے ہیں۔ ملک بھر میں بلدیاتی اختیارات کا سنگین مسئلہ ہے۔ پورے ملک میں آرٹیکل 140 اے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ بلدیاتی اختیارات کا رونا صرف اسلام آباد کا ہی نہیں پورے ملک کا ہے۔

سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے