عورت مارچ کے نعرے درست ہیں: ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عورت مارچ کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چودہ صدیاں پہلے حضرت محمد ﷺ دنیا میں انقلاب لے کر آئے۔ حضرت محمد ﷺ کا پیغام امن و سلامتی کا تھا، انسان کو خدا کا نائب قرار دیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ کے پیغام کا سب سے زیادہ فائدہ کمزور اور محکوم افراد کو پہنچا۔ اس دور میں بیٹیوں کو بچپن میں ہی قتل کرنے کا رواج عام تھا۔ خواتین کو ملکیت سمجھا جاتا تھا، بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا، اسلام نے صنف نازک کو اس کی شناخت اور پہچان فراہم کی۔ اسلام نے خواتین کو اپنی مرضی سے شادی کے بندھن میں بندھنے اور جائیداد میں حصے کا حق دیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آج کے دور میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ خواتین کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے حکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ کم عمری کی شادی، زنا بالجبر اور عزت کے نام پر قتل ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ خواتین کو کاروکاری، سوارا اور ونی کے ذریعے خواتین کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ”یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں ستانوے فیصد شہری اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ اس ملک میں کم سن لڑکیاں بھی محفوظ نہیں، زینب کیس اس کی مثال ہے۔ تمام صورتحال اسلام کے احکامات کی توہین ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں حقوق نسواں کا عالمی دن منانا ضروری ہے۔“
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عورت مارچ میں لگائے جانے والے نعرے اللہ تعالیٰ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے حقوق حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ ایسی ذہنیت کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے جو اسلام سے قبل کے طریقہ کار پر یقین رکھتے ہیں اور خواتین کا استحصال کرتے ہیں۔
فیصلے کے مطابق ”ہمارے طرز عمل سے قبائلی اور بدنظم ذہنیت کی عکاسی نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کیخلاف قبائلی طرز عمل کو مجموعی کوششوں کے ذریعے شکست دینا ہوگی۔ تاکہ کسی خاتون کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور کسی ننھی زینب کو دردناک اذیت کا شکار نہ بننا پڑے۔“

