سردار گروپ کے ٹی وی لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ
پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کی ذیلی کمیٹی نے صحافیوں کی تنخواہوں اور مسائل کے مستقل حل کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی ہے۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے روزنامہ ایشئین نیوز اسلام آباد کی اچانک بندش کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں اٹھایا۔ پی آر اے کے صدر بہزادسلیمی نے روزنامہ ایشئن نیوز کے مالک سردار تنویر الیاس کو کمیٹی کے اگلے اجلاس میں طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔
ذیلی کمیٹی کے بعض ارکان نے پیمرا سے سردار میڈیا گروپ کی طرف سے سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کے حاصل کیے گئے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
کمیٹی کے رکن آفتاب جہانگیر نے کہا کہ جو شخص ایک اخبار کو تنخواہ نہیں دے رہا وہ کل ٹی وی چینلز میں کیا تنخواہ دے گا۔
جمعے کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس قائمقام چیئرمین ندیم عباس ربیرہ کی صدارت میں ہوا۔
اجلاس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کی سب کمیٹی کے کنوینئر سید امین الحق نے میڈیا کی تنخواہوں واجبات بقایاجات اور ان کے مستقل حل پر رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ کارکن صحافیوں کو بعض اداروں میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی جبری برطرفیوں کٹوتیوں اورحکومت کی طرف سے میڈیا اداروں کے بقایاجات اور ان مسائل کے مستقل حل کے لئے دونوں ایوانوں کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔
اجلاس میں صدر پی آر اے بہزاد سلیمی نے پی آر اے کا مطالباتی چارٹر قائمہ کمیٹی کے ارکان کے حوالے کیا۔
پی آر اے کے صدر نے کہا کہ پی آر اے پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کی شکرگزار ہے کہ انہوں نے کارکن صحافیوں کی مشکلات پر ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا مگر افسوس کی بات ہے کہ سفارشات کے باوجود عمل درآمد بہت سست ہے ہم تنخواہوں برطرفیوں اور کٹوتیوں کی بات کررہے تھے ابھی وہ معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ روزنامہ ایشئن نیوز اسلام آباد کا ادارہ ہی بند کردیا گیا ہے۔ صحافیوں کو نکال دیا گیا ہے جس سے 66خاندانوں کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں روزنامہ ایشین نیوز کے مالک سردار تنویر الیاس کو اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ پیمرا سے پوچھا جائے کہ اس نے اسی میڈیا مالک کو دوتین ٹی وی چینل کے لائسنس بھی دیئے ہیں جو آج اخبار کو نہیں چلا رہا وہ کل ٹی وی چینل کے ملازمین رکھ کر ان کے ساتھ کیا کرے گا کمیٹی ارکان نے پی آر اے کے مطالبے کو مکمل سپورٹ کیا اور کہا یہ بات تو بالکل درست ہے کہ جس نے ایک اخبار کو 66ملازمین کو نکال دیا ہے وہ کل ٹی وی چینلز چلائے گا تو ان کے ساتھ کیا کرے گا۔
کمیٹی رکن آفتاب جہانگیر سمیت متعدد ارکان نے پیمرا سے مطالبہ کیا کہ اس اخبار کے مالک کے ٹی وی لائسنس منسوخ کئے جائیں انہیں کمیٹی اجلاس میں بلاکر پوچھا جائے اس نے کیسے بغیر نوٹس دیئے میڈیا کارکنان کو نکال دیا۔

