پاکستان24 متفرق خبریں

”میڈیا آزاد ہوا تو سوشل میڈیا خود مر جائے گا“

مارچ 10, 2020

”میڈیا آزاد ہوا تو سوشل میڈیا خود مر جائے گا“

پاکستان کی پارلیمنٹ کی اطلاعات و نشریات کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جاوید لطیف نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان سے پیمرا کے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے معاملے وضاحت طلب کی۔

پیر کا اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ میڈیا کو آزاد کیا جائے تو سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا آسان ہو گا۔

معاون خصوصی فردوس عاشق نے کہا کہ پیمرا سے صرف یہ کہا ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ معاشرے کی بقاء اس میں ہے کہ پیمرا خود مختار ہو ۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کبھی میڈیا کو کچھ چلانے سے نہیں روکا گیا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کمزور ہیں کئی چیزیں ان کے بس میں نہیں۔

”میڈیا آزادی سے چیزیں دکھائے تو سوشل میڈیا اپنی موت خود مر جائے گا۔ کچھ ایسا کر جائیں کہ پابندیاں لگانے کی ضرورت نہ پڑے۔“

کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ سرکاری ٹی وی پر اپوزیشن کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔ فردوس عاشق نے کہا کہ ”پیمرا کو کسی کی حق تلفی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ نئے پاکستان میں پی ٹی وی آزاد ہے۔ پارلیمنٹ سے کس کی تقریر کتنی چلنی ہے یہ اسپیکر کا اختیار ہے۔“

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں فردوس عاشق نے چیئرمین جاوید لطیف سے کہا کہ آپ میرے بھائی ہیں، مجھے مشکل محاذ پر کھڑا رکھا گیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم اپنی بیٹیوں بہنوں کو با اختیار بنا کر ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں، کچھ نعروں کی وجہ سے ہر شخص پریشان تھا، معاشرے میں عورت کو بہتر ماحول فراہم نہیں کیا جاتا۔

فردوس عاشق اعوان کے مطابق اس قسم کے نعرے عورت کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں، چادر اور چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنا حق ماننے کیلئے تیار نہیں، یہ کسی کا اختیار نہیں کہ ڈنڈے اور پتھر کے ذریعے نظریہ تھوپا جائے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ دوسری طرف متنازعہ نعرے لگانے والے بھی قابل قبول نہیں، حکومت نے درمیان کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا، حکومت نے پیمرا کے ذریعے ٹی وی چینلز کیلئے ایڈوائزری جاری کی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا نے عورت مارچ پر مثبت کردار ادا کیا، سوشل میڈیا پر یہ بحث گالیوں میں تبدیل ہوگئی، اگلے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے کو بھی بلایا جائے۔

فردوس عاشق اعوان کے مطابق سوشل میڈیا پر ہر شخص نے اپنی عدالت لگا رکھی ہے، حکومت سوشل میڈیا قوانین پر کام کررہی ہے، ہم آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگانا چاہتے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حقوق اور فرائض کو اکھٹا کیا جائے، سوشل میڈیا قوانین پر بڑی کمپنیوں نے تحفظات کا اظہار کیا، کمپنیوں کے تحفظات کے بعد سوشل میڈیا قوانین ہر نظرثانی کی جا رہی ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بات سوشل میڈیا پر اس لیے جاتی ہے کیونکہ میڈیا آزاد نہیں، سوشل میڈیا پر وہی بات کسی اور انداز میں پیش کی جاتی ہے، سوشل میڈیا ریگولیشن سے قبل میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے