پاکستان

عدالت جاتے جرنیلوں کی کالونی کا نظارہ کرتے ہیں

مارچ 17, 2020

عدالت جاتے جرنیلوں کی کالونی کا نظارہ کرتے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے بی آر ٹی پشاور منصوبہ کیس کی سماعت میں کہا ہے کہ ججز کی رہائش گاہ سے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور کی طرف جاتے ہوئے راستے میں جرنیلوں کی خوبصورت کالونی آتی ہے،ہم گزرتے ہوئے جرنیلوں کی کالونی کا نظارہ کرتے ہوئے جاتے ہیں.

جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی. عدالت نے بی آر ٹی پشاور کیخلاف ایف آئی اے کو تحقیقات سے روکنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہامقدمہ درخواست گزار کے گھر کا تھا، منصوبے پر بات کی گئی،ایک وقت میں دو بسیں نہ گزرنے والی خبر درست نہیں تھی تو تصحیح کیوں نہیں کی گئی. جسٹس قاضی امین نے کہا ملتان ایکسپریس وے کی تعمیر میں رہائشیوں کی رازداری برقرار رکھتے ہوئے باڑ لگائی گئی.

پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا پشاور بی آر ٹی منصوبہ 31 جولائی دو ہزار بیس میں مکمل ہو جائے گا.

بی آر ٹی کے نمائندے نے کہا سو ارب روپے میں منصوبہ مکمل ہونے کی افواہیں ہیں،بی آر ٹی منصوبہ 66 اشاریہ چار ارب روپے میں مکمل ہوگا.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا سڑک پار کرنے والے پل کے درست نہ ہونے والی خبر ٹھیک نہیں ہے.

صوبائی حکومت کے وکیل نے کہامنصوبے کے ٹریک میں دو کلومیٹر کا اضافہ کیا گیا،ڈیزائن کی تبدیلی اور ٹریک میں دو کلومیٹر اضافے کے باعث سترہ ارب روپے لاگت میں اضافہ ہوا،منصوبے کے 85 فیصد فنڈز ایشیئن ترقیاتی بنک نے دینے ہیں.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاعدالت نے بی آر ٹی پراجیکٹ کی شفافیت،شفاف مقابلہ بازی، آڈیٹنگ کو پرکھنا ہے،کبھی کبھی ملک کیلئے قربانی دینی پڑنی ہے.

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہالاہور میں ایک یک طرفہ راہداری بنائی گئی ہے، شیر پاؤ برج سے مزنگ روڈ تک کوئی یو ٹرن نہیں ملتا، ہمیں دس کلومیٹر کا اضافی چکر کاٹنا پڑتا ہے مگر کوئی بات نہیں سپریم کورٹ لاہور میں پہنچنا آسان ہوگیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ججز کی رہائش گاہ سے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور کی طرف جاتے ہوئے راستے میں جرنیلوں کی خوبصورت کالونی آتی ہے، ہم گزرتے ہوئے جرنیلوں کی کالونی کا نظارہ کرتے ہوئے جاتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے