پاکستان

حکومت کی نااہلی سے کورونا آیا: چیف جسٹس

مارچ 18, 2020

حکومت کی نااہلی سے کورونا آیا: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی عبوری اجازت دے دی ہے۔

عدالت نے پی آئی اے کی سی بی اے یونین کے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے مینجمنٹ اور سے بی اے یونین سے ایک ماہ میں مستقبل کا بزنس پلان طلب کر لیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ وفاق نے قانونی طریقے سے ارشد ملک کو مقرر کیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو کام کرنے کی اجازت دی جائے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ وینٹیلیٹر پر ہے اس لیے ارشد ملک کو کام کرنے دیا جائے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ارشد ملک باصلاحیت آدمی ہیں، وہ نتائج دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جو کورونا وائرس ایئرپورٹ سے بیرون ملک سے آیا یہ پی آئی اے اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس وقت ہر جگہ ملک میں وائرس کی بات ہو رہی ہے، اگر سیکیورٹی کا یہ حال رہا تو کون سی بیماریاں ملک میں آجائیں گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم تو عدالتی کام کے لیے یہاں موجود ہیں، حکومت نے کرونا کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا، اور ہمیں کہہ دیا کہ عدالتی کام روک دیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نو سالوں میں پی آئی اے کے 12سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں۔

پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کیا اس کو بند کردیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیراعظم لندن گئے تو پی آئی اے کا جہاز وہاں کھڑا رہا۔ انہیں کس نے ایسا کرنے کی اجازت دی۔ لندن میں طیارہ کس کے خرچ پر کھڑا رہا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس نے گلگت گھومنا ہووہ خاندان کے ساتھ جہاز لے کر چلا جاتا ہے۔ جس نے کہیں اور جانا ہو وہ جہاز کا رخ بدلوادیتا ہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جھاز کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ حادثہ ہو گیا تو لوگوں کا کیا ھوگا۔ایئر پورٹ کی طرف گند نظر آتا ہے، ھر خراب چیز ایئر پورٹ پر نظر آتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے، اے ایس ایف اور کسٹم والے لوگوں کو سہولت فراھم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، پی آئی اے میں کوئی پروفیشنلزم نظر نہیں آتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں ادارے کا تین سال کے لیے ایسا مستقل سربراہ چاہئیے جو ادارے کو بھتر کر سکے، اس ادارے میں ایک حکومت اپنے بندے بھرتی کرتی ہےاور دوسری نکال دیتی ہے، نکالے جانے والے بعد میں ترقی اور رقوم کا دعوی کرتے ہیں۔ ان کو پھر تیسری حکومت لاکھوں روپے دے دیتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپنے گھر میں ایک ملازم اپنی بساط سے زیادہ نہیں رکھتے۔ اگر گھر کا ملازم ایک گلاس پانی دیر سے پہنچاتا ہے تو اس کو نکال دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پی آئی اے تو ھماراادارہ ہےاس کےساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔ آج بھی سڑک پر کوئی کسی سے پوچھے تو لوگ اللہ کا شکر کےالفاظ ادا کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کک پی آئی اے کے ملازمین نے ایک سابقہ سربراہ کو واش روم میں بند کر دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ھم بھی ایک ادارہ ہیں، لوگوں کے مسائل حل کرنا ھمارا کام ہے۔ پی آئی اے کو کس طرح چلانا ہے ھمیں پتہ ہے، پی آئی اے کے علاوہ بھی کمپنیاں اچھ کام کررہی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی ادارہ یونین کے ھاتھوں میں دینگے تو وہ ادارہ بند ہی ہوجائیگا۔ اس سب کا پھر کون زمہ دار ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کچھ لوگ آتے ہیں سھولیات لے کر غائب ہوجاتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سٹیل مل کی حالات ھمارے سامنے ہیں جس کی حالت خراب ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پی ائی اے ایک قومی ادارہ ہے، ملک کو اس پر فخر ہے مگر بدقسمتی سے کچھ لوگوں کے خراب ہونے سے محکمہ خراب ہو گیا ہے، ادارے میں ایسے ملازمین بھی ہیں جو ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔ایک خاتون جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے سے سفر کیا اور اس کی تعریف کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے